چھوٹی عمر بڑے بوجھ
تحریر: اشمل ساجد
ٰاللہ تعالیٰ نے ہر انسان چاہے وہ نر ہو یا مادہ کے لیے ایک شریک حیات مختص کیا ہے جو کہ زندگی کے اس کٹھن سفر میں اس
کا ہمراہی بنتا ہے اور اس کے ہر دکھ سکھ کا ساتھی بنتا ہے۔ شادی سنت ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک پسندیدہ عمل ہے۔
زمانہ ترقی کر چکا ہے اور اپنی تمام جاہلانہ رسوم و رواج کو پیچھے چھوڑ آیا ہے وہیں پاکستان، برصغیر اور دنیا کے کچھ ایسے
علاقے ہیں جہاں بچوں اور بچیوں کی شادی چھوٹی عمر میں کرنا ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے اور اس سب کی وجہ عقل،
شعور اور تعلیم کی کمی ہے۔ جس طرح حضرت محمد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا میں تشریف لانے سے اس دور کی تمام
جاہلانہ رسومات ختم ہو گئی، اسی طرح تعلیم حاصل کرنے سے انسان کے اندر شعور پیدا ہوتا ہے اور وہ ایسی جاہلانہ رسومات
کو ماننے سے صاف انکار کر دیتا ہے۔ اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جہاں ہر کوئی اسالم اور اپنی خواہشات کے مطابق
اپنی زندگی بسر کرتا ہے۔
چھوٹی عمر میں شادی کا بوجھ زیادہ تر لڑکیوں کے کندھوں پر ہوتا ہے۔ قرآن میں اس بات کا ذکر ہے کہ عورت کو مرد کی پسلی
سے پیدا کیا گیا ہے اور مرد کا درجہ عورت ذات سے زیادہ ہے۔ دیہی علاقوں میں لڑکیوں کو پڑھنے کی اجازت نہیں ہوتی اور ان
کے گھر والے چھوٹی عمر میں ان کی شادی کر دیتے ہیں جس سے لڑکی کی زندگی پر کافی بوجھ پڑتا ہے۔ لڑکیاں اس رسم کی
مضبوطی سے خالف ورزی بھی نہیں کرتی کیونکہ ان کے اندر شعور نہیں ہوتا، انہیں پڑھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ شادی کے بعد
سسرالی اور سماجی دباؤ لڑکی سے ایک وارث کی مانگ کرتا ہے۔ کم عمری میں ایک لڑکی کا جسم اتنا بوجھ برداشت کرنے کے
قابل نہیں ہوتا اور دوران حمل ہی بہت سی لڑکیاں اس دنیا فانی سے کوچ کر جاتی ہیں۔ کم عمر میں شادی لڑکیوں کی زندگی برباد
کر دیتی ہے اور انہیں عمر سے پہلے ہی جوان کر دیتی ہے۔
چھوٹی عمر میں شادی صرف لڑکیوں پر ہی مسلط نہیں کی جاتی بلکہ بہت سے لڑکوں کی شادی بھی کم عمری میں کر دی جاتی
ہے۔ اتنی کم عمر میں ایک لڑکے پر ایک اور شخص جو اس سے جڑا ہوا ہے کی ذمہ داری آ جاتی ہے اور جو عمر اس کے
پڑھنے لکھنے اور آگے بڑھنے کی ہوتی ہے وہ اس عمر میں پیسے کی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے اور کاروبار کی طرف مائل ہو
جاتا ہے۔
شادی جہاں دو انسانوں کے لیے ان کی زندگی کا سب سے حسین پل ہوتا ہے وہیں یہ شادی کم عمری میں شادی کرنے والوں کے
لیے ایک المیہ بن جاتا ہے جس کا پچھتاوا انہیں زندگی بھر رہتا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ تعلیم کی کمی کے باعث
بچے اپنی بے بنیاد اور غیر قانونی شادی کے خالف ورزی کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں اور زندگی بھر کا پچھتاوا ان کے ساتھ
جڑ جاتا ہے۔ ملک کے قانون کو چاہیے کہ جہاں بھی ایسی واردات سامنے آئے اس کے اصل مجرم کو سزا دی جائے اور دیہی
علاقوں میں اسکول کالجوں کا بندوبست کیا جائے تاکہ بچے تعلیم حاصل کریں اور اپنے حقوق سے آگاہ ہوں اور قانون کو اپنا محافظ
اور نگران سمجھیں، اور ایسی رسومات کا حصہ نہ بنیں۔
📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates!
تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں