مسلم دنیا میں امریکی عسکری مداخلت: ریاستی طاقت یا ریاستی دہشت گردی؟
تحریر: عاقب جتوئی
اکیسویں صدی کی عالمی سیاست میں امریکہ کا کردار محض ایک طاقتور ریاست کا نہیں بلکہ ایک ایسی بالادست قوت کا رہا ہے جس کی عسکری، سیاسی اور معاشی مداخلتوں نے مسلم دنیا کے وسیع خطّوں کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ یہ اثر محض سفارتی دباؤ یا نظریاتی اختلاف تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی طور پر جنگ، بمباری، ریاستی انہدام، مہاجرت اور وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصانات کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ اس پس منظر میں یہ سوال اب محض جذباتی یا سیاسی نہیں بلکہ علمی اور اخلاقی بن چکا ہے کہ آیا ایسی ریاستی کارروائیاں، جن کے نتائج دہشت گردی جیسے ہوں، خود اسی زمرے میں شمار نہیں کی جانی چاہئیں۔
دہشت گردی کی عمومی تعریف اگرچہ غیر ریاستی عناصر کے لیے وضع کی گئی ہے، تاہم اس کی بنیادی روح خوف پیدا کرنا، عام شہریوں کو نشانہ بنانا، اور سیاسی یا تزویراتی مقاصد کے لیے منظم تشدد کا استعمال ہے۔ یہی وہ پیمانہ ہے جس پر اکیڈمک دنیا میں ’’ریاستی دہشت گردی‘‘ کی اصطلاح زیرِ بحث آتی ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی قانون میں اس اصطلاح کو کم استعمال کیا جاتا ہے، مگر انسانی حقوق اور سیاسیات کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بعض ریاستی پالیسیاں اپنے اثرات میں دہشت گردانہ نتائج پیدا کرتی ہیں، چاہے انہیں کسی بھی قانونی عنوان کے تحت پیش کیا جائے۔
افغانستان میں 2001 سے 2021 تک جاری رہنے والی امریکی جنگ اس کی واضح مثال ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر شروع ہونے والا یہ تصادم بیس برس بعد بھی افغانستان کو امن نہ دے سکا۔ ڈرون حملے، فضائی بمباری اور زمینی کارروائیاں محض عسکری اہداف تک محدود نہ رہیں بلکہ عام آبادی، شادی کی تقریبات، جنازوں اور دیہی بستیوں تک پھیل گئیں۔ آخرکار انخلا کے بعد ایک ایسا ملک باقی رہ گیا جس کا ریاستی ڈھانچہ کمزور، معیشت مفلوج اور عوام نفسیاتی و معاشرتی بحران میں مبتلا ہیں۔ یہ سب کچھ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر مقصد امن تھا تو نتیجہ مسلسل عدم استحکام کیوں نکلا۔
عراق پر 2003 میں ہونے والا امریکی حملہ جدید تاریخ کی سب سے متنازع جنگوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس جنگ کی بنیاد Weapons of Mass Destruction کے دعوے پر رکھی گئی، جو بعد ازاں خود امریکی تحقیقات میں غلط ثابت ہوا۔ اس ایک فیصلے نے پورے عراق کو تباہی کی طرف دھکیل دیا۔ لاکھوں شہری ہلاک ہوئے، بنیادی انفراسٹرکچر برباد ہوا، فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا ملی اور اسی خلا میں ISIS جیسی شدت پسند تنظیم نے جنم لیا۔ اس تناظر میں یہ جنگ نہ صرف اخلاقی بلکہ علمی اور قانونی سطح پر بھی سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔
2011 میں لیبیا میں کی گئی امریکی و نیٹو مداخلت کو انسانی حقوق کے تحفظ کے نام پر جائز قرار دیا گیا، مگر اس کے نتائج اس دعوے کے بالکل برعکس نکلے۔ ایک مستحکم ریاست ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی، مرکزی حکومت کمزور پڑ گئی اور مسلح گروہوں نے اقتدار پر قبضہ جما لیا۔ آج لیبیا میں خانہ جنگی، انسانی اسمگلنگ اور غلامی جیسے مظاہر اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں درج ہیں، جو اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ یہ مداخلت امن کے بجائے انتشار لے کر آئی۔
شام میں امریکی کردار براہِ راست عسکری کارروائیوں، فضائی بمباری اور بالواسطہ پراکسی سیاست تک پھیلا ہوا ہے۔ اس طویل جنگ نے لاکھوں جانیں لیں اور کروڑوں افراد کو مہاجر بنا دیا۔ قدرتی وسائل، بالخصوص تیل کے ذخائر پر کنٹرول کی سیاست نے شامی عوام کو ایک ایسی جنگ میں جھونک دیا جس کا خاتمہ ابھی تک نظر نہیں آتا۔ یہ صورتِ حال اس امر کی غماز ہے کہ عالمی طاقتوں کی تزویراتی ترجیحات کس طرح انسانی زندگی سے بالاتر ہو جاتی ہیں۔
ایران کے خلاف عائد کی گئی سخت معاشی پابندیاں اگرچہ براہِ راست جنگ نہیں، مگر ان کے اثرات کسی عسکری حملے سے کم نہیں۔ ادویات، خوراک اور بنیادی سہولیات تک رسائی میں رکاوٹیں عام شہریوں کو متاثر کرتی ہیں۔ انسانی حقوق اور معاشیات کے ماہرین ان پابندیوں کو ’’خاموش جنگ‘‘ قرار دیتے ہیں، کیونکہ ان کا بوجھ حکومت کے بجائے براہِ راست عوام پر پڑتا ہے، جو بالواسطہ طور پر جانی نقصان کی ایک صورت بن جاتا ہے۔
فلسطین کے معاملے میں امریکی کردار براہِ راست بمباری کے بجائے مسلسل سیاسی، عسکری اور سفارتی حمایت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اسرائیل کو دی جانے والی غیر مشروط امداد اور اقوامِ متحدہ میں ویٹو پاور کے استعمال نے فلسطینی علاقوں، خصوصاً غزہ، میں ہونے والی تباہی کو عالمی احتساب سے بچائے رکھا ہے۔ اگرچہ امریکہ خود حملے نہیں کرتا، مگر اس کی حمایت ان کارروائیوں کو ممکن بناتی ہے، جسے بہت سے تجزیہ نگار بالواسطہ شراکت قرار دیتے ہیں۔
ان تمام جنگوں اور مداخلتوں کا مجموعی اثر مسلم دنیا کے لیے تباہ کن رہا ہے۔ لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، کھربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، تعلیمی اور صحت کے نظام تباہ ہوئے، اور کروڑوں افراد مہاجرت پر مجبور ہوئے۔ United Nations، Amnesty International اور Human Rights Watch جیسی تنظیمیں بارہا ان پالیسیوں پر شدید تنقید کر چکی ہیں، اگرچہ وہ قانونی زبان میں دہشت گردی کے بجائے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی اصطلاحات استعمال کرتی ہیں۔
نتیجتاً یہ بحث محض الفاظ کے انتخاب کی نہیں رہتی بلکہ اثرات کے تجزیے کی بن جاتی ہے۔ اگر کسی ریاستی پالیسی کے نتائج وہی ہوں جو دہشت گردی کے ہوتے ہیں—یعنی خوف، قتل، تباہی اور مسلسل عدم استحکام—تو اسے محض قانونی اصطلاحات کے سہارے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مضمون کسی قوم کے خلاف نفرت کا اظہار نہیں بلکہ ریاستی طاقت کے غیر ذمہ دارانہ استعمال پر ایک تحقیقی سوال ہے، جس کا جواب تاریخ کے صفحات پر رقم ہو رہا ہے، اور جس کی قیمت آج مسلم دنیا اپنے خون، وسائل اور مستقبل سے ادا کر رہی ہے۔
.jpg)