حضرت سیدنا امام حسن مثنیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ: سیرت و کردار کا درخشندہ باب

 

حضرت سیدنا امام حسن مثنیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ: سیرت و کردار کا درخشندہ باب

حضرت سیدنا امام حسن مثنیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ: سیرت و کردار کا درخشندہ باب


تحریر:محمد شاہ رخ فیروز قادری


اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی تاریخ محض چند ہستیوں کا ذکر نہیں بلکہ یہ حق کی سربلندی، بے مثال صبر، اور اسلامی تہذیب کی بقا کی ایک عظیم داستان ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو ہدایت کے دو سرچشمے عطا فرمائے: ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اپنی عترت (اہلِ بیت)۔ انہی جلیل القدر شخصیات میں ایک نمایاں نام حضرت امام حسن مثنیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے، جو فضیلت اور تقویٰ کا پیکر تھے۔


ولادت اور نسبی نسبت

آپ کی ولادت با سعادت 12 رمضان المبارک 29 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ سبطِ رسول حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزندِ ارجمند ہیں۔ شکل و صورت، اخلاق اور اوصاف میں اپنے والدِ گرامی سے بے حد مشابہت رکھنے کی بنا پر آپ کو "مثنیٰ" کہا جاتا ہے، جس کے معنی "دوسرا" یا "اصل کی نقل" کے ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت خولہ بنت منظور فزاریہ تھیں۔ آپ نے بچپن کے دس سال اپنے دادا، فاتحِ خیبر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے سایہ شفقت میں گزارے، جس نے آپ کی شخصیت کو علمی و روحانی جلا بخشی۔


معرکہ کربلا اور بقائے نسلِ حسنی

60 ہجری میں جب حق و باطل کا معرکہ کربلا کے میدان میں بپا ہوا، تو آپ اپنے چچا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ ثبات و استقامت کے ساتھ کھڑے رہے۔ میدانِ کارزار میں آپ شدید زخمی ہوئے، لیکن اللہ تعالیٰ کو آپ کے ذریعے نسلِ حسنی کو بقا دینی تھی۔ آپ کے ماموں آپ کو زخمی حالت میں میدانِ جنگ سے کوفہ لے گئے، جہاں علاج و معالجہ کے بعد آپ صحت یاب ہو کر مدینہ منورہ تشریف لائے۔


علمی و روحانی مقام

امام حسن مثنیٰ ایک بلند پایہ محدث، فقیہ اور تابعی تھے۔ آپ کا زہد و تقویٰ اور عبادت گزاری ضرب المثل تھی۔ علمِ دین، خاص طور پر قرآن و حدیث کی تشریح میں آپ کو وہ ملکہ حاصل تھا کہ بڑے بڑے اہل علم آپ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتے۔ آپ اپنے والدِ گرامی کے دورِ خلافت میں صدقات کے امور کی نگرانی بھی فرماتے رہے۔


نکاح اور خاندانی زندگی

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے بھتیجے حسن مثنیٰ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے۔ روایات کے مطابق، جب امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی صاحبزادی کے رشتے کے لیے آپ سے رائے مانگی، تو حیا کے باعث آپ خاموش رہے۔ چنانچہ امام عالی مقام نے اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ صغریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح آپ سے کر دیا۔ یوں آپ کو امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے داماد ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا۔

وصال اور فیضانِ نسل

آپ کا وصال 17 رجب 97 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوا اور ایک روایت کے مطابق آپ جنت البقیع میں محوِ استراحت ہیں۔ آپ کی نسل سے دنیا کو وہ عظیم اولیاء اور صوفیاء ملے جنہوں نے اسلام کی تبلیغ میں کلیدی کردار ادا کیا، جن میں نمایاں نام درج ذیل ہیں:

سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ

حضرت سیدنا عبداللہ شاہ غازیؒ

حضرت امام حسن مثنیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی صبر، ایثار اور علم و عمل کا وہ مجموعہ ہے جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔


Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !