امریکا کی رجیم چینج پالیسی: جمہوریت کا دعویٰ یا عالمی تسلط کا منصوبہ؟
دنیا کی جدید تاریخ میں اگر کسی ایک ملک نے سب
سے زیادہ ’’جمہوریت‘‘ کے نعرے لگائے اور اسی نعرے کی آڑ میں سب سے زیادہ ریاستوں کے
داخلی معاملات میں مداخلت کی تو وہ امریکا ہے۔ بظاہر انسانی حقوق، آزادیِ اظہار اور
جمہوری اقدار کا علمبردار بننے والا امریکا درحقیقت ایک ایسی عالمی پالیسی پر عمل پیرا
رہا ہے جس کا مقصد دنیا کے وسائل، منڈیوں اور جغرافیائی اہمیت رکھنے والے خطوں پر بالواسطہ
یا بلاواسطہ کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اس پالیسی کو آج کی اصطلاح میں ’’ رجیم چینج پالیسی‘‘ کہا جاتا ہے۔
رجیم چینج کوئی نیا تصور نہیں۔ یہ سرد جنگ کے
دور سے چلا آ رہا ہے، جب امریکا اور سوویت یونین دنیا کو اپنے اپنے اثر و رسوخ کے حلقوں
میں تقسیم کر رہے تھے۔ اس زمانے میں لاطینی امریکا، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا
کے متعدد ممالک اس کشمکش کا میدان بنے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج بندوق کے ساتھ ساتھ پابندیاں،
میڈیا، سفارت کاری اور معاشی دباؤ بھی ہتھیار بن چکے ہیں۔
وینزویلا اس پالیسی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ لاطینی
امریکا کا یہ ملک دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھتا ہے، مگر اس کے باوجود برسوں
سے شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ مغربی بیانیہ یہ بتاتا ہے کہ وینزویلا کی تباہی کی
وجہ بدعنوانی، ناقص حکمرانی اور سوشلسٹ پالیسیاں ہیں، مگر اس تصویر کا دوسرا رخ اکثر
نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا نے وینزویلا پر سخت معاشی پابندیاں
عائد کیں، اس کے تیل کی برآمدات روکی گئیں، بین الاقوامی مالیاتی نظام سے اسے الگ کرنے
کی کوشش کی گئی اور منتخب حکومت کے متوازی ایک ’’متبادل قیادت‘‘ کو عالمی سطح پر تسلیم
کروانے کی مہم چلائی گئی۔
ان پابندیوں کا براہِ راست اثر حکومت سے زیادہ
عام عوام پر پڑا۔ خوراک، ادویات اور ایندھن کی قلت نے زندگی اجیرن بنا دی۔ سوال یہ
ہے کہ اگر مقصد جمہوریت کا فروغ تھا تو سزا عوام کو کیوں دی گئی؟ کیا بھوک، بیماری
اور بے روزگاری جمہوریت لاتی ہیں یا افراتفری؟
ایران کے خلاف امریکی پالیسی بھی اسی سلسلے کی
ایک کڑی ہے۔ 1979ء کے انقلاب کے بعد سے امریکا اور ایران کے تعلقات کشیدہ رہے، مگر
گزشتہ دو دہائیوں میں معاشی پابندیوں کو ایک منظم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔
ایران کے بینکنگ سسٹم کو نشانہ بنایا گیا، تیل کی فروخت محدود کی گئی اور عالمی سطح
پر اسے تنہا کرنے کی کوشش کی گئی۔ مقصد واضح تھا: داخلی دباؤ بڑھا کر حکومت کو کمزور
کرنا یا عوام کو بغاوت پر اکسانا۔
تاہم ایران کی مثال یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ ہر
رجیم چینج منصوبہ کامیاب نہیں ہوتا۔ ریاستی اداروں کی مضبوطی، قومی بیانیہ اور عوامی
مزاحمت نے ان دباؤ کو کسی حد تک ناکام بنایا۔ اس کے باوجود ایرانی عوام نے بھی ان پابندیوں
کی قیمت ادا کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی طاقتیں اصولوں سے زیادہ مفادات کو ترجیح
دیتی ہیں۔
اگر ہم مشرقِ وسطیٰ کی طرف دیکھیں تو عراق، لیبیا
اور افغانستان کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ عراق میں ’’Weapons of Mass Destruction‘‘ کا بیانیہ بنا کر حملہ کیا گیا، صدام حسین کی
حکومت ختم کی گئی، مگر نتیجہ ایک مستحکم جمہوریت کے بجائے خانہ جنگی، فرقہ واریت اور
تباہ حال ریاست کی صورت میں نکلا۔ لیبیا میں معمر قذافی کے خاتمے کے بعد آج تک کوئی
مضبوط ریاستی ڈھانچہ قائم نہیں ہو سکا۔ افغانستان میں بیس سالہ جنگ کے بعد امریکا نے
اچانک انخلا کیا اور ملک ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا۔
یہ تمام مثالیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ
رجیم چینج کا اصل مقصد اکثر عوام کی فلاح نہیں بلکہ اسٹریٹجک کنٹرول ہوتا ہے۔ کبھی
تیل، کبھی جغرافیائی محلِ وقوع، کبھی چین یا روس کے بڑھتے اثر کو روکنے کی کوشش — ہر
خطے میں وجہ بدل جاتی ہے، مگر طریقہ کار تقریباً ایک جیسا رہتا ہے۔
اس طریقہ کار میں میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے۔
پہلے مرحلے میں کسی ملک کی حکومت کو آمر، بدعنوان یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا
مرتکب قرار دیا جاتا ہے۔ پھر عالمی میڈیا کے ذریعے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جاتا
ہے جس میں ریاستی ناکامی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد پابندیاں، سفارتی
دباؤ اور اندرونی سیاسی گروہوں کی حمایت شروع ہوتی ہے۔ اگر یہ سب ناکام ہو جائے تو
فوجی مداخلت کو ’’آخری حل‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہم بھی اس
عالمی کھیل سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں پاکستان کو سوویت
یونین کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ بنایا گیا۔ بعد ازاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی
ہم نے ایک طویل عرصہ امریکی پالیسیوں کے تحت فیصلے کیے۔ اس دوران معاشی امداد، سفارتی
دباؤ اور سکیورٹی تعاون کے نام پر ہماری داخلی سیاست اور خارجہ سمت پر اثرات مرتب ہوتے
رہے۔
یہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہو کہ پاکستان میں بھی
بعض اوقات فیصلے عوامی ضرورت سے زیادہ عالمی مفادات کے تحت کیے گئے۔ کبھی ہمیں ’’اہم
اتحادی‘‘ کہا گیا اور کبھی اچانک ’’ڈو مور‘‘ کی گردان شروع ہو گئی۔ اس سارے عمل نے
ہمیں یہ سبق دیا کہ عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، صرف مفادات ہوتے
ہیں۔
آج دنیا ایک کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھ رہی
ہے۔ چین، روس اور دیگر ابھرتی طاقتیں امریکی بالادستی کو چیلنج کر رہی ہیں۔ ایسے میں
رجیم چینج کی پالیسی بھی نئے انداز اختیار کر رہی ہے۔ براہِ راست فوجی مداخلت کی جگہ
معاشی جنگ، ٹیکنالوجی کی پابندیاں اور بیانیاتی جنگ زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا،
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور اطلاعاتی یلغار اب اس جنگ کا اہم حصہ ہیں۔
ترقی پذیر ممالک کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے
کہ وہ اپنی خودمختاری کو کس طرح محفوظ رکھیں۔ کیا ہم ہر عالمی دباؤ کے سامنے جھک جائیں
یا اپنے قومی مفاد کو اولین ترجیح دیں؟ یہ فیصلہ آسان نہیں، کیونکہ معاشی کمزوری اور
اندرونی سیاسی انتشار کسی بھی بیرونی مداخلت کو آسان بنا دیتا ہے۔
رجیم چینج کی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل
طاقت عوام میں ہوتی ہے، مگر جب عوام کو معاشی طور پر کمزور اور ذہنی طور پر تقسیم کر
دیا جائے تو فیصلے کہیں اور ہونے لگتے ہیں۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ
یہ معاشی انصاف، خودمختاری اور قومی وقار کا تقاضا بھی کرتی ہے۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا امریکا واقعی دنیا
میں جمہوریت پھیلانا چاہتا ہے یا اپنی مرضی کا عالمی نظام قائم کرنا؟ وینزویلا سے لے
کر ایران، عراق اور افغانستان تک کی مثالیں ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ طاقتور
ریاستیں اپنے مفاد کے لیے اصولوں کو کس آسانی سے پسِ پشت ڈال دیتی ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس صورتحال میں سب
سے اہم چیز ایک واضح قومی بیانیہ، مضبوط ادارے اور باشعور عوام ہیں۔ کیونکہ جب فیصلے
عوام کے ہاتھ میں ہوں تو بیرونی طاقتوں کے لیے رجیم چینج محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی
ہے، حقیقت نہیں۔
.jpg)