امام احمد رضا خان بریلوی بطور سائنس دان ،ایک نظر انداز کیا گیا روشن باب

 امام احمد رضا خان بریلوی بطور سائنس دان ،ایک نظر انداز کیا گیا روشن باب

Imam Ahmad Raza Khan Barelvi as a Scientist — An Overlooked Personality

تحریر: کاشف بلوچ

امام احمد رضا خان بریلویؒ کو عموماً ایک عظیم فقیہ، محدث اور مجدد کے طور پر جانا جاتا ہے، لیکن تاریخ کا ایک اہم اور کم بیان کیا گیا پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے دور کے غیر معمولی سائنس دان بھی تھے۔ ان کی سائنسی بصیرت، تحقیق اور استدلال آج کی جدید سائنس کے کئی اصولوں سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔

امام احمد رضا خان اور سائنس کا تعلق
انیسویں صدی میں جب مغربی سائنس کو حتمی سچ سمجھا جا رہا تھا، امام احمد رضا خانؒ نے سائنسی نظریات کو اندھی تقلید کے بجائے عقل، مشاہدہ اور وحی کی روشنی میں پرکھا۔ یہی انداز انہیں دیگر علما سے ممتاز کرتا ہے۔

فزکس (طبیعیات) میں امام احمد رضا خان کی خدمات
امام احمد رضا خانؒ نے علمِ طبیعیات کے مشکل موضوعات پر قلم اٹھایا، خاص طور پر زمین کی حرکت (Motion of Earth) کے مسئلے پر۔ ان کا مشہور سائنسی رسالہ:

"فوز مبین در ردِ حرکتِ زمین"
اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ محض مذہبی عالم نہیں بلکہ گہرے سائنسی شعور کے حامل تھے۔ اس رسالے میں انہوں نے:ریاضیاتی دلائل،طبیعیاتی اصول،فلسفیانہ استدلال اور مشاہداتی حقائق
کے ذریعے زمین کی حرکت کے نظریے پر علمی تنقید پیش کی، جو اس دور میں برصغیر میں اپنی نوعیت کا پہلا کام تھا۔
کششِ ثقل اور کثافت پر منفرد وضاحت
امام احمد رضا خانؒ نے کششِ ثقل (Gravity) کو صرف زمین کی طاقت نہیں مانا بلکہ اجسام کی کثافت (Density) اور ہوا کے دباؤ کو بھی اس میں شامل کیا۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ:
بھاری اجسام زمین کی طرف آتے ہیں
جبکہ کم کثافت والے اجسام (جیسے غبارہ) اوپر کی طرف جاتے ہیں
یہی اصول آج جدید سائنس میں Buoyancy اور Fluid Mechanics کہلاتا ہے، مگر امام احمد رضاؒ نے یہ نکتہ اس وقت بیان کیا جب یہ اصطلاحات عام نہ تھیں۔
فلکیات (Astronomy) میں مہارت
امام احمد رضا خانؒ کو فلکیات پر غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ انہوں نے:سورج اور چاند کی گردش،نمازوں کے اوقات،قبلہ کی،درست سمت،سایوں کے حساب
ایسے دقیق ریاضیاتی فارمولوں سے معلوم کیے کہ ان کے حسابات کو حرمین شریفین کے علما نے بھی تسلیم کیا۔ یہ ان کی Applied Astronomy میں مہارت کا واضح ثبوت ہے۔
ریاضی میں امام احمد رضا خان کا مقام
ان کی تحریروں اور فتاویٰ میں پیچیدہ ریاضیاتی مسائل، جیومیٹری اور حسابی اصول بڑی روانی سے استعمال ہوئے ہیں۔ انہوں نے ریاضی کو صرف اعداد کا علم نہیں بلکہ کائنات کو سمجھنے کا ذریعہ بنایا۔
فلسفۂ سائنس میں امام احمد رضا خان کی انفرادیت:امام احمد رضا خانؒ کی سب سے بڑی سائنسی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے یہ واضح کیا کہ:ہر سائنسی نظریہ حتمی نہیں ہوتا
انہوں نے عقل، تجربہ اور وحی کے درمیان توازن قائم کیا، جو آج کے دورمیں Philosophy of Science کہلاتا ہے۔ یہ فکر ان کے زمانے سے بہت آگے کی تھی۔ ایک ایسا سائنس دان جو اپنے وقت سے آگے تھا۔انہوں نے:بغیر جدید لیبارٹری،بغیر مغربی اداروں،بغیر سرکاری اعزازات۔ فزکس، فلکیات، ریاضی اور فلسفۂ سائنس میں وہ خدمات انجام دیں جو ان سے پہلے برصغیر میں کسی نے نہیں کیں۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ امام احمد رضا خانؒ اگر مغرب میں پیدا ہوتے تو آج انہیں دنیا کے بڑے سائنس دانوں میں شمار کیا جاتا۔

Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !