حضرت علیؓ کی کعبہ میں ولادت — تاریخ، عقیدت اور تحقیق
تحریر: عاقب جتوئی
اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کے ساتھ عقیدت، تاریخ اور تحقیق تینوں جڑی ہوتی ہیں۔ حضرت علی بن ابی طالب بھی انہی عظیم ہستیوں میں شامل ہیں۔ آپ رسولِ اکرم ﷺ کے قریبی ترین افراد میں سے تھے اور اسلام کی تاریخ میں آپ کا کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ مگر آپ کی ولادت کے حوالے سے ایک سوال صدیوں سے زیرِ بحث ہے: کیا حضرت علیؓ کی پیدائش واقعی خانۂ کعبہ کے اندر ہوئی؟
یہ سوال محض ایک تاریخی نکتہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ عقیدت، مسلکی زاویے اور علمی منہج سب وابستہ ہیں۔ اہلِ تشیع کے نزدیک حضرت علیؓ کی ولادتِ کعبہ ایک مسلّم اور قطعی حقیقت ہے۔ ان کے تاریخی و روایتی مصادر کے مطابق حضرت فاطمہ بنت اسد دردِ زہ کے عالم میں کعبہ کے قریب آئیں، دیوار شق ہوئی اور وہ اندر داخل ہوئیں، جہاں حضرت علیؓ کی ولادت ہوئی۔ شیعہ علما اس واقعے کو حضرت علیؓ کی امتیازی فضیلت اور روحانی مقام کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اسے نسل در نسل منتقل ہونے والی معروف تاریخی روایت قرار دیتے ہیں۔
اہلِ سنت کا زاویۂ نظر اس معاملے میں زیادہ محتاط ہے۔ وہ اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ حضرت علیؓ کی ولادتِ کعبہ کا ذکر متعدد تاریخی کتب میں ملتا ہے۔ بعض سنی مؤرخین، جیسے حاکم نیشاپوری اور مسعودی نے اس واقعے کو اپنی تصانیف میں نقل بھی کیا ہے۔ تاہم اہلِ سنت کے محدثین کے نزدیک یہ روایت حدیثی معیار پر پوری نہیں اترتی، کیونکہ یہ نہ صحیح بخاری میں ہے اور نہ صحیح مسلم میں۔ اسی لیے وہ اسے ایک معروف تاریخی روایت تو مانتے ہیں، مگر اسے عقیدے یا قطعی فضیلت کا درجہ نہیں دیتے۔
اہلِ حدیث کا موقف اس معاملے میں سب سے زیادہ اصولی اور سخت ہے۔ ان کے نزدیک کسی بھی واقعے کے اثبات کے لیے صحیح یا حسن حدیث کا ہونا ضروری ہے۔ چونکہ ولادتِ کعبہ کے بارے میں موجود روایات ان کے معیار کے مطابق ضعیف ہیں، اس لیے وہ نہ اس واقعے کی تصدیق کرتے ہیں اور نہ ہی اس کی بنیاد پر کوئی دعویٰ قائم کرتے ہیں۔ اہلِ حدیث علما کے نزدیک اس معاملے میں خاموشی اور توقف ہی علمی دیانت کا تقاضا ہے۔
اگر تینوں مکاتبِ فکر کے مؤقف کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایک اہم بات سامنے آتی ہے: اختلاف حضرت علیؓ کی عظمت پر نہیں، بلکہ تحقیق کے طریقۂ کار پر ہے۔ اہلِ تشیع تاریخی شہرت اور فضائل کو بنیاد بناتے ہیں، اہلِ سنت تاریخ اور حدیث کے درمیان توازن قائم رکھتے ہیں، جبکہ اہلِ حدیث صرف سندِ حدیث کو معیار بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی واقعہ مختلف نتائج تک پہنچاتا ہے۔
آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے موضوعات کو فرقہ وارانہ کشمکش کے بجائے علمی اور تاریخی شعور کے ساتھ دیکھا جائے۔ حضرت علیؓ کی عظمت، قربانی اور خدمات اسلام کسی ایک روایت کی محتاج نہیں۔ اگر ان کی ولادت واقعی کعبہ میں ہوئی تو یہ ان کے لیے ایک عظیم شرف ہے، اور اگر اس کا قطعی ثبوت حدیثی معیار پر نہیں ملتا تو بھی ان کا مقام و مرتبہ اپنی جگہ مسلم ہے۔
علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ تاریخ کو تاریخ کے طور پر پڑھا جائے، عقیدت کو عقیدت کے دائرے میں رکھا جائے اور اختلاف کو احترام کے ساتھ قبول کیا جائے۔ یہی طرزِ فکر امت کو جوڑتا ہے، توڑتا نہیں۔
.jpg)