صبر: محض انتظار نہیں، ایک فعال اور فاتح قوت

 

  صبر: محض انتظار نہیں، ایک فعال اور فاتح قوت

Patience: Not Just Waiting, an Active and Winning Force


  تحریر:  پیر انتظار حسین مصور

آج کے تیز رفتار دور میں، جہاں ہر شے ایک کلک کی دوری پر ہے، 'صبر' کو اکثر ایک کمزوری یا جمود سے تعبیر کیا جانے لگا ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صبر کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جانا اور حالات کے آگے ہتھیار ڈال دینا ہے۔ لیکن یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ درحقیقت، صبر بے بسی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی فعال، توانا اور باصلاحیت رویے کا نام ہے۔ یہ وہ روحانی اور اخلاقی قوت ہے جو انسان کو ہنگامی حالات میں بھی متوازن رہنے کا ہنر سکھاتی ہے۔

صبر کی اصل تعریف اور اس کی عملی معنویت کو سمجھنے کے لیے ہمیں اپنے پیارے آقا، سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ آپ ﷺ کی پوری زندگی صبرِ جمیل کی ایک روشن مثال ہے۔ مکہ کی سختیاں ہوں یا طائف کے میدان میں لہولہان وجود، ہر آزمائش کے وقت آپ ﷺ کی پیشانی پر شکن تک نہ آئی۔ آپ ﷺ کا صبر مایوسی کا نہیں، بلکہ ایک ایسی مضبوط حکمتِ عملی کا نام تھا جس نے بتدریج پورے جزیرہ نما عرب کو نورِ توحید سے منور کر دیا۔ آپ ﷺ نے صبر کے ذریعے ہی دشمنوں کے دلوں کو موم کیا اور اخلاق کی وہ بلندی دکھائی جس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔

صحابہ کرامؓ کی حیاتِ طیبہ میں ہمیں صبر کے وہ لازوال نقوش ملتے ہیں جو آج کے دور کے ہر پریشان حال انسان کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ حضرت بلال حبشیؓ کا صبر کون بھلا سکتا ہے؟ تپتی ہوئی ریت پر، سینے پر بھاری پتھر رکھے جانے کے باوجود ان کی زبان سے نکلنے والا "احد! احد!" کا نعرہ صبر کی وہ بلند ترین سطح تھی جس نے ظلم کو شکست دی۔ یہ خاموش بیٹھنا نہیں تھا، بلکہ اپنے عقیدے پر کاربند رہنے کی وہ فعال جدوجہد تھی جس نے جبر کے نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔

اسی طرح حضرت ابو ذر غفاریؓ کا صبر بھی ایک درخشاں مثال ہے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو مکہ کی گلیوں میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، مگر انہوں نے حق کی خاطر ہر دکھ کو صبر کے ساتھ قبول کیا۔ ان کا صبر مایوسی کا نہیں، بلکہ ایک مضبوط انقلابی عزم کا نام تھا۔ انہوں نے مصائب کے پہاڑ جھیلے، لیکن ان کے پائے استقلال میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ آج کا انسان، جو چھوٹی چھوٹی محرومیوں پر بکھر جاتا ہے، اسے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صبر، منزل کے حصول کی جانب ایک مسلسل اور پرعزم پیش قدمی ہے۔

معاشرتی سطح پر دیکھیں تو ہمارے زیادہ تر جھگڑے اسی لیے جنم لیتے ہیں کہ ہم نے 'فوری ردعمل' کی عادت پال لی ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں، جہاں بغیر سوچے سمجھے کوئی بھی بات کہنا یا کسی کے بارے میں رائے قائم کر لینا معمول بن چکا ہے، وہاں صبر کا دامن تھامنا ایک بہت بڑی بہادری ہے۔ یہ صبر ہی ہے جو انسان کو جذباتی فیصلوں کے نقصانات سے بچاتا ہے۔ خاندانی زندگی ہو یا کاروباری معاملات، صبر ہی وہ کڑی ہے جو رشتوں کو ٹوٹنے سے اور کاروبار کو ناکامی سے بچاتی ہے۔ جب ہم کسی مشکل میں صبر کرتے ہیں، تو دراصل ہم اپنے اعصاب کو پرسکون کر رہے ہوتے ہیں تاکہ ہم مسئلے کا بہتر حل سوچ سکیں۔

صبر کا ایک دوسرا رخ 'تدبر' بھی ہے۔ یہ صبر ہی ہمیں سکھاتا ہے کہ طوفان میں چیخنے چلانے سے کشتی پار نہیں ہوتی، بلکہ بادبانوں کو درست سمت میں موڑنے سے ہوتی ہے۔ صبر ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر تاریک رات کے بعد ایک روشن صبح کا وعدہ اٹل ہے۔ جب ہم صبر کرتے ہیں تو ہم اللہ کی رحمت کے امیدوار بن جاتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ "بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔" یہ معیتِ الٰہی ہی انسان کو وہ طاقت فراہم کرتی ہے جو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آج کے دور میں صبر کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے۔ ہم ذہنی تناؤ، معاشی دباؤ اور معاشرتی بے چینی کا شکار ہیں۔ ان سب کا بہترین علاج صبر ہی ہے۔ صبر کرنے والا شخص کبھی تنہا نہیں ہوتا کیونکہ اس کا بھروسہ خالقِ کائنات پر ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ مشکلات عارضی ہیں اور صبر کے نتیجے میں ملنے والا اجر دائمی ہے۔

آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صبر کوئی منزل نہیں بلکہ سفر ہے۔ یہ زندگی کے ہر موڑ پر، ہر آزمائش میں اپنی ذات کو سنبھالنے کا نام ہے۔ اگر آج ہم اپنی زندگی میں صبر کو بطور ایک 'فعال قوت' شامل کر لیں، تو ہم نہ صرف اپنے اندرونی سکون کو بحال کر سکتے ہیں بلکہ معاشرے میں پھیلی بے چینی اور افراتفری کو بھی کم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ صبر کرنا، دراصل خود کو جیتے جی امر کر لینا ہے۔ آئیے، آج ہم عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی کے ہر قدم پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں گے، ٹھیک اسی طرح جیسے ہمارے پیارے آقا ﷺ اور ان کے صحابہؓ نے ہمیں سکھایا۔

Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !