آٹھ مارچ: حقوقِ نسواں یا تذلیلِ نسواں؟
تحریر: محمد شاہ رخ فیروز قادری
گزشتہ ایک صدی سے دنیا بھر میں 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کے آغاز کی تاریخ 1908 سے جڑی ہے، جب امریکہ کے شہر نیویارک میں ہزاروں خواتین نے اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے مارچ کیا۔ ان خواتین کے اہم مطالبات میں ووٹ کا حق، ملازمت پیشہ خواتین کے لیے مردوں کے برابر مراعات اور تنخواہیں، اور معاشرتی تحفظ شامل تھے۔
اگلے سال 1909 میں سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے پہلی بار قومی یومِ خواتین منایا۔ بعد ازاں اس دن کو عالمی سطح پر متعارف کروانے میں جرمن خاتون کلالاراٹکن کا اہم کردار تھا۔ انہوں نے 1910 میں کوپن ہیگن میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس آف ورکنگ ویمن میں یہ تجویز پیش کی کہ خواتین کے حقوق کے لیے ایک عالمی دن منایا جائے۔ اس تجویز کے بعد 1911 میں آسٹریلیا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں پہلی بار عالمی یومِ خواتین منایا گیا۔ بعد ازاں 1975 میں اقوام متحدہ نے باضابطہ طور پر اس دن کو تسلیم کیا، اور تب سے ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔
مغربی معاشروں میں سیکولرازم اور لبرل ازم کے فروغ کے بعد اخلاقی اقدار شدید متاثر ہوئی ہیں۔ خاص طور پر خواتین کے حوالے سے ترقی اور آزادی کے نام پر ایسے رجحانات فروغ پائے جنہوں نے انہیں مزید غیر محفوظ بنا دیا۔ فیشن اور جدیدیت کے نام پر ان کے لباس اور حیا کے تصور کو کمزور کیا گیا اور انہیں نیم برہنگی کی طرف دھکیلا گیا۔
دنیا بھر میں جنسی جرائم میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر تیسری عورت اپنی زندگی میں کسی نہ کسی شکل میں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہزاروں متاثرہ خواتین تشدد اور ذہنی دباؤ کے باعث خودکشی یا دیگر سانحات کا شکار بھی ہو جاتی ہیں۔
گزشتہ سو سال کی تاریخ میں خواتین کے عالمی دن کی عوامی سطح پر اس طرح مخالفت نہیں ہوئی تھی، مگر حالیہ برسوں میں بعض مشرقی ممالک میں ہونے والے مارچز میں ایسے نعرے لگائے گئے جنہوں نے معاشرے کے مختلف طبقات میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ ماضی میں اس دن کے دوران غیر اخلاقی، غیر شرعی یا غیر آئینی مطالبات سامنے نہیں آتے تھے، مگر اب یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ خواتین مارچ اپنے اصل مقصد سے ہٹ کر ایک مخصوص ایجنڈے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
آج کل کچھ مخصوص حلقے عورت مارچ کے نام پر ایسے نعرے اور مطالبات پیش کرتے ہیں جو معاشرتی اقدار اور روایات سے متصادم سمجھے جاتے ہیں۔ سڑکوں اور سوشل میڈیا پر آزادیِ نسواں کے نام پر ایسے نعرے سننے کو ملتے ہیں جیسے:
"میرا جسم میری مرضی"،
"دوپٹہ اتنا ہی پسند ہے تو اپنی آنکھوں پر باندھ لو"،
یا ہم جنس پرستی کے فروغ سے متعلق نعرے۔
اگر واقعی خواتین کے حقوق کے لیے مخلصانہ جدوجہد کی جاتی تو مطالبات کچھ اس نوعیت کے ہوتے:
تعلیم میرا حق ہے،
اعلیٰ تعلیم کے حصول تک ریاست اور معاشرہ میری مدد کرے،
شادی میں میری رضامندی کو اہمیت دی جائے،
جائیداد میں میرا قانونی اور شرعی حق مکمل طور پر دیا جائے،
ملازمت پیشہ خواتین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے،
اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم کرنے والوں کو سخت ترین سزائیں دی جائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مغرب سے متاثر ایک طبقہ سیکولرازم اور لبرل ازم کے زیر اثر اخلاقی اقدار اور خاندانی رشتوں کے احترام سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے معاشرے کو مذہب سے دور کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں دینی اقدار کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا جاتا ہے۔
حالانکہ اسلامی تعلیمات میں انسانی وقار، خاندانی نظام اور خواتین کے حقوق کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اسلام نے عورت کو جو عزت، تحفظ اور حقوق عطا کیے ہیں، وہ دنیا کے بہت سے معاشروں اور نظاموں میں نظر نہیں آتے۔
.jpg)
.jpg)