آبنائے ہرمزاور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ: ایک تاریخی حقیقت
دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ "آبنائے ہرمز" کی تاریخ ایک عظیم اسلامی معرکے سے جڑی ہے جسے 'معرکہ ذات السلاسل' کہا جاتا ہے۔ سن 12 ہجری (633ء) میں جب عظیم اسلامی سپہ سالار سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سرزمینِ عراق کا رخ کیا، تو ان کا سامنا ساسانی سلطنت کے مغرور گورنر 'ہرمز' سے ہوا، جو اس ساحلی علاقے پر حکمران تھا۔ میدانِ جنگ کے آغاز میں ہی جب دونوں کا دست بدست مقابلہ ہوا، تو اللہ کے شیر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بے مثال شجاعت سے ہرمز کا خاتمہ کر کے ساسانی غرور کو خاک میں ملا دیا۔
اگرچہ قدیم جغرافیائی کتب میں اس مقام کا نام 'ہرمز' کے نام سے منسوب ملتا ہے، لیکن مسلمانوں کی تاریخ میں یہ مقام ہمیشہ فاتحِ عالم سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت اور حق و باطل کے معرکے کی یاد دلاتا ہے۔ آج بھی سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس گزرگاہ کو 'آبنائے خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ' کے نام سے پکارنے کی ایک پرزور تحریک موجود ہے، جو اس عظیم صحابی رسول ﷺ کی جرات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک طریقہ ہے، اگرچہ بین الاقوامی نقشوں میں اب بھی اسے 'آبنائے ہرمز' کے پرانے نام سے ہی پہچانا جاتا ہے۔
.jpg)
