اساتذہ، ریاست اور مستقبل کی کشمکش
تحریر: عاقب جتوئی
پنجاب میں اساتذہ کی حالیہ تحریک محض تنخواہوں یا مراعات کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ ریاستی ترجیحات، سماجی انصاف اور تعلیمی مستقبل کے درمیان ایک سنجیدہ کشمکش کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ 31 مارچ 2026 کو لاہور میں دی گئی احتجاجی دھرنے کی کال دراصل اس اضطراب کا اظہار ہے جو ایک طویل عرصے سے اساتذہ کے دلوں میں پنپ رہا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو قوم کی فکری بنیادیں استوار کرتا ہے، مگر آج خود عدم تحفظ، بے یقینی اور پالیسیوں کے بوجھ تلے دبا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
حالیہ برسوں میں پینشن قوانین میں تبدیلی نے اساتذہ کے لیے سب سے بڑا سوالیہ نشان کھڑا کیا ہے۔ ریاست جب اپنے ملازمین کے بڑھاپے کے تحفظ سے دستبردار ہونے لگے تو اس کا مطلب صرف ایک مالی فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک اخلاقی معاہدے کی کمزوری کی علامت بھی ہوتا ہے۔ روایتی پینشن نظام محض ایک ادائیگی نہیں تھا بلکہ ایک یقین دہانی تھی کہ عمر بھر کی خدمت کے بعد ریاست اپنے ملازم کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ نئے نظام نے اس یقین کو متزلزل کر دیا ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں اساتذہ کی بے چینی ایک منظم احتجاج میں ڈھلتی نظر آتی ہے۔
اسی طرح ڈسپیرٹی الاؤنس کا معاملہ بھی محض مالی عدم مساوات کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات کا عکاس ہے۔ جب ایک ہی ڈھانچے کے اندر مختلف محکموں کے ملازمین کے ساتھ مختلف سلوک روا رکھا جائے تو اس سے ادارہ جاتی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔ اساتذہ کا یہ شکوہ کہ انہیں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، کسی حد تک وزن رکھتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو اپنے استاد کو معاشی طور پر کمزور رکھتا ہے، درحقیقت اپنی فکری بنیادوں کو خود کمزور کر رہا ہوتا ہے۔
سیکشن 17-A کا خاتمہ اس بحث میں ایک اور اہم پہلو کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ شق بظاہر ایک انتظامی سہولت تھی، مگر عملی طور پر یہ ہزاروں خاندانوں کے لیے ایک حفاظتی دیوار کا کردار ادا کرتی تھی۔ کسی سرکاری ملازم کی دورانِ سروس وفات کے بعد اس کے خاندان کو روزگار کی فراہمی محض ہمدردی نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری تھی۔ اس سہولت کے خاتمے نے یہ سوال ضرور اٹھایا ہے کہ کیا ریاست اپنے کمزور ترین شہریوں کے لیے بھی اسی شدت سے کھڑی ہے جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے؟
ان تمام مسائل کے ساتھ سرکاری سکولوں کی نجکاری کا معاملہ اس پوری بحث کو مزید گہرا اور پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ نجکاری کو اکثر کارکردگی میں بہتری کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، مگر اس کے سماجی اثرات پر سنجیدہ مکالمہ کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ اگر تعلیم کو منڈی کے سپرد کر دیا جائے تو اس کا سب سے پہلا اثر اس طبقے پر پڑتا ہے جو پہلے ہی وسائل کی کمی کا شکار ہے۔ اساتذہ کی مزاحمت کو محض ایک پیشہ ورانہ ردعمل سمجھنا شاید مسئلے کی اصل نوعیت کو نظر انداز کرنا ہوگا؛ یہ دراصل اس خوف کا اظہار ہے کہ کہیں تعلیم ایک بنیادی حق سے بدل کر ایک مہنگی سہولت نہ بن جائے۔
لاہور میں ہونے والا 31 مارچ کا دھرنا اسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں ریاست اور اس کے معماروں کے درمیان مکالمہ ہونا چاہیے، تصادم نہیں۔ اساتذہ کی سڑکوں پر موجودگی محض احتجاج نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ پالیسی سازی میں ان کی آواز کو شامل کیا جائے۔ اگر یہ آواز سنی نہ گئی تو اس کے اثرات محض ایک شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
ایک سنجیدہ معاشرے کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے استاد کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ اگر استاد خود غیر محفوظ، غیر مطمئن اور غیر مستحکم ہوگا تو وہ آنے والی نسلوں کو کیا استحکام دے سکے گا؟ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اساتذہ کے مطالبات کو محض ایک احتجاجی بیانیہ سمجھنے کے بجائے ایک وسیع تر قومی تناظر میں دیکھا جائے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں ریاست کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ تعلیم کو خرچ سمجھتی ہے یا سرمایہ کاری۔
یہ کشمکش وقتی نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی مستقبل کا تعین کرے گی۔
.jpg)