سید نذر حسین شاہ صاحب کے متعلق چند معروضات
تحریر: محمد شاہ رخ فیروز قادری
گزشتہ دو تین دنوں میں کئی دوستوں نے فون کرکے پوچھا کہ سید نذر حسین شاہ صاحب کے خلیفہ و شاگردِ اعلیٰ حضرت ہونے سے متعلق آپ کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا کہ میرے کہنے نا کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا فرق اس سے پڑتا ہے کہ تحقیق کیا کہتی ہے؟ چند باتیں عرض کررہا ہوں اگر بغیر تحقیق کے سب کچھ فارورڈ کر دینے والا مافیا ہضم کرسکے۔
ہم جب سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے خلفائے کرام کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو پاتے ہیں کہ کسی شخصیت کے سیدی اعلیٰ حضرت کے خلیفہ ہونے کے حوالے کے طور پر ان تین کتابوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
• خلفائے محدثِ بریلوی (پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد)
• تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت (مولانا محمد صادق قصوری، پروفیسر مجید اللہ قادری)
• تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت (مولانا محمد شاہد القادری، کلکتہ)
سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے خلفاء کے حوالے سے پہلے خلفائے محدثِ بریلوی شائع ہوئی پھر تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت شائع ہوئی جس میں مصنف نے پہلی کتاب کے علاوہ مزید کئی خلفائے اعلیٰ حضرت کے ناموں کا اضافہ کیا نیز جب تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت شائع ہوئی تو اس میں مزید ان عظیم شخصیات کا نام شامل کیا گیا کہ جو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے مستند خلفاء ہیں۔ بعض شخصیات کے خلیفہ اعلیٰ حضرت ہونے پر اختلاف بھی پایا جاتا ہے جیسے کہ علامہ قاضی شمس الدین جونپوری رحمۃ اللہ علیہ۔ بعض علماء نے انہیں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا خلیفہ لکھا ہے لیکن کئی علماء فرماتے ہیں کہ وہ اعلیٰ حضرت کے خلیفہ نہیں تھے بلکہ شہزادگانِ اعلیٰ حضرت حضور حجۃ الاسلام اور حضور مفتی اعظم ہند سے حضرت کو خلافت حاصل تھی۔
اس کے بعد عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے رکن شوریٰ مولانا ابوماجد محمد شاہد عطاری صاحب نے جون 2021 میں 134 خلفائے اعلیٰ حضرت کی فہرست آن لائن شائع فرمائی جسے بعد میں ان خلفائے کرام کی مختصر سوانح حیات کے ساتھ جون 2023 میں اسے شائع کیا گیا۔ (آن لائن دستیاب ہے)
سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے شاگردوں اور خلفائے کرام سے متعلق خود اعلیٰ حضرت کی سیرت کی کتابوں میں ملنے والی روایات ہی مستند سمجھی جاتی ہیں ان کتب میں سرفہرست حیاتِ اعلیٰ حضرت ہے جو کہ خلیفۂ اعلیٰ حضرت ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ہے نیز اعلیٰ حضرت کی سیرت پر ایک اور مستند کتاب جہانِ امام احمد رضا ہے اور اس کے علاوہ بھی مختلف چھوٹے بڑے رسائل سیدی اعلیٰ حضرت کی سیرت پر ملتے ہیں۔ میں نے مذکورہ تمام کتابوں (علاوہ جہانِ امام احمد رضا) میں ڈھونڈا لیکن سید نذر حسین شاہ صاحب کے خلیفہ اعلیٰ حضرت یا مریدِ اعلیٰ حضرت ہونے سے متعلق کوئی ایک عبارت بھی نہ ملی۔
میرے ایک دوست کا سید نذر حسین شاہ صاحب کے گھر آنا جانا تھا میں ان کی معرفت حضرت کے گھر گیا اور ملاقات کی اور وہ سارے سوالات انتہائی تفصیل سے پوچھے جو آج کل ہمارے لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں۔ اور مجھے بالکل بھی افسوس نہیں ہے اس بات کا کہ مجھے کسی بھی بات کا کوئی جواب ملا ہو۔ انہوں نے مجھے اپنے خلیفہ اعلیٰ حضرت ہونے کی دلیل کے طور پر وہاں آویزاں مزارِ اعلیٰ حضرت کی ایک تصویر دکھائی جو آپ کو کسی بھی سنی مکتبہ سے بآسانی مل سکتی ہے یا آپ انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کرکے پرنٹ نکال کر فریم کرواکر اپنے گھر میں بھی لگا سکتے ہیں۔
اب آجائیے عمر سے متعلق، یہ بات ہمارے یہاں پوسٹروں کے ذریعے مشہور ہوئی اور ہمارے لوگوں نے اپنی محفلوں میں ”ہجوم” جمع کرنے کے لئے پوسٹروں میں لکھی کہ حضرت کی عمر 136 سال تھی لیکن اس بات کا کوئی ثبوت مجھے نہیں ملا کہ جس سے ثابت ہو کہ حضرت کی عمر 136 سال تھی۔
جب ہم تھوڑی تحقیق کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وکی پیڈیا پر 100 سال سے زائد عمر کی 100 تصدیق شدہ عمر رسیدہ ترین خواتین اور اسی طرح 100 مردوں کی فرہست ملتی ہے (https://en.wikipedia.org/wiki/List_of_the_verified_oldest_people) جس میں سب سے زائد عمر مرد 116 سال اور سب سے زائد عمر خاتون 122 سال کی ملتی ہیں کہ جن کے بارے میں کئی سالوں سے ریکارڈ مینٹین کیا جاتا رہا اور جس وقت ان کے 100 سال سے زائد عمر ہونے کا پتہ چلا اس وقت وہ زندہ تھے۔ اور بغیر افسوس کئے عرض کروں کہ مجھے اس فہرست میں سید نذر حسین شاہ صاحب کا نام نہیں ملا۔
میں نے اپنی ملاقات میں جب حضرت سے یہ بات عرض کی کہ جب آپ کی عمر اتنی زیادہ ہے کہ آپ دنیا کے سب سے زائد عمر کے شخص سے بھی 14 سال بڑے ہیں تو آپ کا نام اس لسٹ میں یا گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ (Guinness Book of World Records) میں کیوں شامل نہیں کرایا جاتا۔ اس کا جواب وہاں موجود ان کے رشتہ دار نے یہ دیا کہ ”حضرت مشہور ہونے سے بچتے ہیں” میں نے ان سے کہا حضرت کو آپ بڑے بڑے جلسوں میں لے کر جاتے ہیں اور حضرت کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں اور آپ کہ رہے ہیں کہ ”حضرت مشہور ہونے سے بچتے ہیں”۔
بعض لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ علامہ رضوی علیہ الرحمہ کے ساتھ ان کی کنٹینر پر تصویر ہے یا پھر یومِ رضا کے پروگرام میں علامہ شاہ عبدالحق صاحب نے حضرت کی دست بوسی کی تو بھائی رضوی صاحب ہوں یا شاہ عبدالحق صاحب بزرگوں کا احترام اہلسنت کا خاصہ رہا ہے اور وہ تو پھر سید زادے تھے۔
اب آجائیے پہلی بات پر کہ سید نذر حسین شاہ صاحب کے خلیفہ و شاگردِ اعلیٰ حضرت ہونے سے متعلق میں کیا کہتا ہوں؟
تو جواب یہ ہے کہ مجھے کسی مستند کتاب میں ایسی کوئی ایک لائن نہیں ملی جس سے ثابت ہو کہ سید نذر حسین شاہ صاحب سیدی اعلیٰ حضرت کے خلیفہ تھے یا شاگرد تھے یا انہوں نے اعلیٰ حضرت کا زمانہ پایا۔
حاجی حنیف طیب صاحب کی طرف سے انتقال پر تعزیت کی خبر جاری کی گئی اس میں بھی مرید یا خلیفہ کے بجائے نسبت کا لفظ استعمال کیا گیا یہ قدرے محتاط انداز ہے۔
آج خلیفہ تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا صوفی کلیم رضوی حنفی صاحب کی یہ ویڈیو میری نظر سے گزری۔ میں اس ویڈیو میں "سید نذر حسین شاہ صاحب کی اعلی حضرت سے نسبت" سے متعلق کہی ہوئی باتوں سے متفق ہوں۔
.jpg)
