کچرا چننے والے لڑکے کا خواب
تحریر: محمد بلال رفیق
میں نے اُسے پہلی بار گلی کے اُس موڑ پر دیکھا
جہاں شہر اپنی گندگی اور انسان اپنی نظریں چھوڑ جاتے ہیں
وہ جھکا ہوا تھا
ہاتھ میں بوسیدہ تھیلا
آنکھوں میں ایک خاموش سی سنجیدگی
جو بچوں کے چہروں پر کم ہی ٹھہرتی ہے
وہ کچرے میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا
جیسے وہاں بھی زندگی چھپی ہو
پھر اُس نے ایک ٹکڑا اٹھایا
گرد جھاڑی
اور کھا لیا
میں نے نظریں ہٹا لیں
اور پہلی بار سمجھ آیا
بھوک صرف پیٹ میں نہیں ہوتی
وہ بھی خواب دیکھتا ہے
ایک صاف دن
ایک بستہ
ایک کتاب
اور ماں کے چہرے پر تھوڑی سی آسانی
اگلے دن وہ سکول کے باہر تھا
بچے ہنس رہے تھے
اور وہ ایک لمحے کو رکا
پھر آگے بڑھ گیا
جیسے اُس کے لیے وہاں رکنا ممکن ہی نہ ہو
میں اُس کے پیچھے گیا
وہ ایک چھوٹے سے گھر میں داخل ہوا
جہاں کھانسی پہلے سے جاگ رہی تھی
ماں خاموش تھی
باپ بیمار
اور برتن خالی تھے
وہ مٹھی کھولتا ہے
چند سکے گرتے ہیں
اور اُس گھر میں
وہ آواز بھی امید نہیں رہتی
صرف حقیقت بن جاتی ہے
میں دروازے پر ٹھہر گیا
اندر نہیں گیا
کیونکہ کچھ زندگیاں دیکھی نہیں جاتیں
صرف محسوس کی جاتی ہیں
رات مجھے نیند نہیں آئی
ایک ہی سوال تھا
کیا اُس لڑکے کے بھی خواب ہیں
صبح وہ پھر وہیں تھا
اسی تھیلے کے ساتھ
اسی خاموشی کے ساتھ
اور میں آگے چل دیا
کیونکہ شہر نہیں رکتا
اور نہ ہی وہ لڑکا
.jpg)