پاکستان میں کم عمری کی شادی: قانون، اعداد و شمار، اثرات، وجوہات اور روک تھام کے اقدامات
تحریر: علی رضا جمالی
"چھوٹے قدم، ننھے دل؛ شادی کا بوجھ نہ ڈالیں!"
پاکستان کی وہ نوجوان لڑکی، جس کے ہاتھوں میں قلم اور کتابیں ہونی چاہئیں تھیں، افسوس آج اس کے ہاتھوں میں مہندی سجی ہوئی ہے کیونکہ آج اس کی شادی ہے۔ سماجی فرسودہ رواج اس سے بچپن، تعلیم اور خواب چھین چکے ہیں، اور اس کی زندگی کے روشن دن رسومات کی زنجیر میں پھنس گئے ہیں۔
چائلڈ میر یعنی ۱۸ سال سے کم عمر میں شادی کرنا۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں چھٹے نمبر پر آتا ہے جہاں ۱۸ سال سے کم عمر کے بچے شادی کے بندھن میں بندھے ہیں۔ سرکاری اور عالمی رپورٹس کے مطابق، پاکستان میں ہر چھ میں سے ایک بچے کی شادی ۱۸ سال کی عمر سے کم میں ہوتی ہے۔ یہ عمل نہ صرف بچپن کا قتل ہے بلکہ تعلیم، صحت اور سماجی ترقی کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے اور حکومت کو اس سنگین مسئلے پر بالکل فرق نہیں پڑتا۔ پاکستان میں صوبے سندھ، بلوچستان اور کیپیٹل اسلام آباد میں شادی کی کم سے کم عمر ۱۸ سال ہے، جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں لڑکوں کے لیے۱۸ (اٹھارہ) سال اور لڑکیوں کے لیے۱٦ (سولہ )سال مقرر ہے۔ بہرحال، ملک کے حکمران قانون تو بنا چکے ہیں، لیکن شاید اس پر عملدرآمد کروانا اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے۔
پاکستان میں تقریباً(اسی) ۸۰ فی صدچائلڈ میرجز سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں بنتیں، اور جو کیس سامنے آتے ہیں، ان کے خلاف نہ کوئی مؤثر کارروائی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی سنجیدہ رکاوٹ نظر آتی ہے۔ بہرحال، قانون موجود ہے اور پاکستان میں چائلڈ میرج کے خلاف سخت سزا مقرر ہے۔
اسلام آباد :
اسلام آباد میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ ۲۰۲۵ منظور ہو چکا ہے۔اُس کے مطابق جو بالغ۱۸ سال سے کم عمر کے ساتھ شادی کرے، اسے 2 سے 3 سال قید اور ایک لاکھ سے زیادہ جرمانہ ہو سکتا ہے۔جو بھی ایسی شادی کروائے، ترتیب دے، سہارا دے یا زبردستی کرائے، اسے ۳ تین سال قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔نکاح خانے یا رجسٹریشن آفیسر جو عمر کی تصدیق نہیں کرتا، اسے ایک سال قید اور بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے۔زبردستی یا شادی کے لیے مجبور کرنے اور ٹریفکنگ کی صورت میں قید ۷ سات سال تک اور جرمانہ دس لاکھ تک ہے۔
صوبہ سندھ:
میرج ریسٹرینٹ ایکٹ ۲۰۱۳ لاگو ہے.اس قانون کے مطابق:بالغ ۱۸ سال سے کم عمر کے ساتھ شادی کرے، اسے عام طور پر دو سے تین سال قید اور بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے۔شادی کروانے والے، سہارا دینے والے یا انتظام کرنے والے پر بھی یہی سزا لاگو ہوگی۔
صوبہ پنجاب:
چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ ۱۹۲۹ اور ترمیم ۲۰۱۵ اب بھی لاگو ہے۔ اس قانون کے مطابق :بالغ قانونی عمر سے کم عمر کے ساتھ شادی کرے، اسے ٦ ماہ قید اور پچاس ہزار جرمانہ ہو سکتا ہے۔شادی کروانے، سہارا دینے یا انتظام کرنے والے پر بھی یہی سزا ہوگی۔
صوبہ خیبر پختونخوا:
پرانی چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ ۱۹۲۹کے تحت:لڑکی کے لیے سولہ سال سے کم اور لڑکے کے لیے اٹھارہ سال سے کم عمر میں شادی کرنے پر ٦ ماہ قید اور پچاس ہزار جرمانہ۔شادی کروانے، نکاح پڑھانے یا انتظام کرنے والے پر بھی یہی سزا لاگو ہوگی۔
صوبہ بلوچستان:
چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ، کے تحت:بالغ اٹھارہ سال سے کم عمر کے ساتھ شادی کرے، اسے دو سے تین سال قید اور ایک سے دولاکھ جرمانہ۔شادی کروانے، سہارا دینے یا انتظام کرنے والے پر بھی یہی سزا ہوگی۔نکاح خانے یا رجسٹریشن آفیسر کو بچوں کی عمر کی تصدیق کرنا لازمی ہے، ناکامی پر قانونی کارروائی۔
صوبوں کے حساب سے چائلڈ میرج کے اعداد و شمار
سندھ:
سندھ میں قومی کمیشن برائے حقوقِ بچے اقوامِ متحدہ کا بین الاقوامی بچوں کا ہنگامی امدادی فنڈ کی رپورٹ کے مطابق پچیس فیص لڑکیاں اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے شادی شدہ ہیں، یعنی ہر چوتھی لڑکی اس ظلم کا شکار ہے۔
سندھ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ نے 2024 میں ایک سروے کیا، جس میں سندھ کے اضلاع میں بچوں کی شادی کے اعداد و شمار ظاہر کیے گئے ہیں۔جن کے ظاہر کیے گئے اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں۔
جيڪب آباد: 46.3٪
دادو: 42.9٪
عمرکوٹ: 40.2٪
شکارپور: 38.6٪
گھوٹکی: 37.7٪
تھرپارکر: 36.4٪
میرپورخاص: 35.5٪
سانگھڑ: 34.7٪
سکھر: 32.6٪
ٹنڈو الہ یار: 32.4٪
بدین: 30.8٪
مٹیاڑی: 29.2٪
خیرپور: 28.8٪
نوشہرو فیروز: 28.8٪
جامشورو: 26.7٪
ٹھٹھہ: 23.8٪
سجاول: 22.2٪
ٹنڈو محمد خان: 14.4٪
کراچی: 15.4٪
حیدرآباد: 17.4٪
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ دیہی اضلاع میں بچوں کی شادی کا مسئلہ زیادہ سنگین ہے، جبکہ کراچی اور حیدرآباد جیسے بڑے شہروں میں یہ نسبتاً کم نظر آتا ہے۔
پنجاب:
پنجاب میں اقوام متحدہ کا بین الاقوامی ہنگامی امدادی فنڈ برائے بچے ایک سروی، "ملٹیپل انڈیکیٹر کلسٹر سروےکے مطابق، 20 سے 24 سال کی خواتین میں تقریباً 13.8 فیصد کی شادی 18 سال کی عمر سے قبل ہوئی، اور 2.5 فیصد کی شادی 15 سال کی عمر سے قبل ہوئی۔
خیبر پختونخوا:
اقوام متحدہ کا بین الاقوامی ہنگامی امدادی فنڈ برائے بچے کی رپورٹ کے مطابق، خیبر پختونخوا میں 20 سے 24 سال کی خواتین میں تقریباً 26.3% فیصد کی شادی 18 سال کی عمر سے قبل ہوئی، اور 6.4% فیصد کی شادی 15 سال کی عمر سے قبل ہوئی۔سرکاری رپورٹس کے مطابق، خیبر پختونخوا پاکستان کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے، جہاں بچوں کی شادی کا مسئلہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ سنگین اور تشویشناک ہے۔
بلوچستان:
اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی فنڈ برائے بچوں کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 20 سے 24 سال کی خواتین میں تقریباً%21٪ کی شادی 18 سال سے قبل اور 6.4٪ کی شادی 15 سال سے قبل ہو چکی ہے۔
ایک پرائیویٹ تنظیم، (سیو دی چلڈرن) کی 2024 کی سروے کے مطابق، بلوچستان میں دو تہائی یعنی تقریباً 66٪ شادیاں 18 سال کی عمر سے قبل ہوئی ہیں، جن میں سے 40٪ شادیاں 16 سال کی عمر سے قبل ہوئی ہیں۔ صوبے میں ہر چار میں سے ایک لڑکی 16 سال کی عمر سے قبل اپنا پہلا بچہ پیدا کر لیتی ہے، جبکہ 60٪ لڑکیاں 18 سال کی عمر سے قبل ماں بن جاتی ہیںبچپن میں شادی کے بچوں کی زندگی پر اثرات
تعلیم میں رکاوٹ
چھوٹی عمر میں شادی بچوں کی زندگی پر خاص طور پر تعلیم کے حوالے سے شدید منفی اثر ڈالتی ہے۔ ایسی شادی کی وجہ سے بچہ تعلیم جیسی قیمتی چیز سے محروم ہو جاتا ہے، جو اس کے مستقبل کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
صحت پر اثر
عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی تحقیق کے مطابق، 18 سال سے کم عمر میں شادی بچوں کی جسمانی صحت پر انتہائی منفی اثر ڈالتی ہے۔ چھوٹی عمر میں شادی کرنے والی لڑکیاں جلد حمل کا شکار ہو جاتی ہیں، جس سے ان میں خون کی کمی، وقت سے پہلے بچے کی پیدائش، پیدا ہونے والے بچے کا وزن کم ہونا اور زچگی کے دوران مختلف پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں۔ یہ تمام حالات ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ذہنی دباؤ
پاکستان کے سماجی و اقتصادی تحقیقاتی رسالےکے مطابق، جو بچے 18 سال سے پہلے شادی کرتے ہیں، وہ عام طور پر ذہنی دباؤ، اینگزائٹی، ڈپریشن اور جذباتی تکالیف کا شکار ہوتے ہیں۔والدین بننے کی ذمہ داری
چھوٹی عمر میں شادی کرنے کی وجہ سے لڑکیاں جلد والدین بن جاتی ہیں، اور اس عمر میں والدین کی ذمہ داریاں نبھانا ان کے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ والدین بننے کے یہ اضافی دباؤ ان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر مزید اثر انداز ہوتا ہے۔
سماجی اور خاندانی دباؤ
بچپن میں شادی کرنے والے بچے اکثر خاندان اور معاشرے کی توقعات اور دباؤ کا سامنا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی آزادی، نفسیاتی بہتری اور ذاتی ترقی متاثر ہوتی ہے۔
بچپن میں شادی کرنے کے اسباب
غربت اور مالی تنگدستی
ہمارے ملک پاکستان میں چھوٹی عمر میں شادی کرنے کا سب سے اہم سبب غربت ہے۔ کئی والدین اپنے گھر کے اخراجات صحیح طریقے سے نہیں سنبھال سکتے، اس لیے وہ اپنی بیٹیوں کی شادی جلد کرنے کو زیادہ مناسب حل سمجھتے ہیں، تاکہ گھر کی مالی ذمہ داری کم ہو اور خاندان کا معاشی بوجھ ہلکا ہو جائے۔
تعلیم کی کمی
چھوٹی عمر میں شادی کا ایک اہم سبب تعلیم کی کمی بھی ہے۔ جب والدین یا بچے خود پڑھے لکھے نہیں ہوتے، تو انہیں لڑکیوں کی تعلیم، جسمانی اور ذہنی نشوونما، اور شادی سے متعلق ذمہ داریوں کے بارے میں صحیح معلومات نہیں ہوتیں۔ ایسی لاعلمی کی وجہ سے وہ چھوٹی عمر میں شادی کو نقصان دہ سمجھنے کے بجائے اسے عام اور مناسب عمل سمجھتے ہیں۔
سماجی دباؤ اور روایتی رسومات
ہمارے معاشرے میں کچھ ایسی ریتیں اور رسوم موجود ہیں، جنہیں میں انسان قاتل سوچ سمجھتا ہوں۔ ان روایات کے دباؤ میں والدین اپنے گلڑوں جیسے بچوں کی چھوٹی عمر میں شادی کرانے میں پیش قدمی کرتے ہیں، بغیر یہ سوچے کہ ایسا عمل ان کی زندگی اور مستقبل کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مذہبی دباؤ اور رواج
ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ موجود ہے، جو مذہب کو اپنے ذاتی فائدے اور مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ لوگ اپنی ذاتی سوچ کو ہی مذہب کی سوچ سمجھ کر پیش کرتے ہیں اور دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر شادی کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر کی جائے تو یہ اسلام کے خلاف ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ مکمل طور پر ان کی اپنی سوچ ہے۔ اسلام 18 سال میں شادی کرنے سے منع نہیں کرتا، اور دو یا تین سال انتظار کرنے کو بھی غلط یا غیر اسلامی قرار دینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
غیر شادی شدہ تعلقات کا خوف
ہمارے معاشرے میں والدین اکثر اس خوف میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ان کے بچے کسی کے ساتھ ناجائز یا غیر مناسب تعلق نہ بنا لیں۔ اس دباؤ کے تحت، وہ اپنے بچوں کی جلد یا بچپن میں شادی کو محفوظ اور مناسب عمل سمجھتے ہیں، تاکہ بچوں کی زندگی اور عزت کی حفاظت ہو سکے۔
بچپن میں شادیوں کو کیسے روکا جائے
قانون کا صحیح نفاذ اور نگرانی
حکومتی اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے بنائے گئے قوانین کو صحیح طریقے سے نافذ کریں اور ان کی مسلسل نگرانی جاری رکھیں۔ جو لوگ یا ادارے قانون کی خلاف ورزی کریں، انہیں فوری طور پر قانون کے مطابق سزا دینا ان اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، تاکہ بچپن میں شادیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
شادی کی رجسٹریشن کو لازمی بنانا
حکومتی اداروں کو چاہیے کہ شادی کی رجسٹریشن کو لازمی بنایا جائے اور ہر شادی کی دستاویزی رجسٹریشن یقینی بنائی جائے۔ جو شادیاں رجسٹر نہ ہوں، ان کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے، تاکہ بچپن میں شادیوں کو روکنے اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
چائلڈ رائٹس کے بارے میں والدین کو آگاہی
ہمارے معاشرے میں پڑھے لکھے افراد پر فرض ہے کہ وہ والدین اور کمیونٹی کے لوگوں کو بچوں کے حقو ق کے بارے میں آگاہ کریں۔ انہیں واضح طور پر سمجھایا جائے کہ بچپن میں شادی کے منفی اثرات کیا ہیں اور کیوں یہ عمل بچوں کی تعلیم، صحت اور مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا اور میڈیا کے ذریعے آگاہی مہمیں
سوشل میڈیا اور میڈیا پر یہ فرض ہے کہ وہ بچپن میں شادی کے خلاف آگاہی مہمیں چلائیں۔ جو لوگ سوشل میڈیا پر مؤثر حیثیت رکھتے ہیں، انہیں چاہیے کہ اپنے دیکھنے والوں اور سننے والوں کو واضح طور پر آگاہ کریں کہ بچپن میں شادی ایک نقصان دہ عمل ہے، جو بچوں کی تعلیم، صحت اور مستقبل پر منفی اثر ڈالتا ہے۔
سماجی اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ کوششیں
ہمارے معاشرے اور تعلیمی اداروں کو مشترکہ کوششیں کرنی چاہیے تاکہ بچپن میں شادیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ آئیں آج، بحیثیت ایک شعور رکھنے والے سماج، خود سے وعدہ کریں کہ ہم اپنے عزیز وطن سے اس بیماری (بچپن میں شادیوں) کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
.jpg)