سوانح حیات: خطیبِ اعظم پاکستان علامہ محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: محمد شاہ رخ فیروز قادری
نام و نسب
آپ کا اسمِ گرامی محمد شفیع ہے، جبکہ علمی و عوامی حلقوں میں آپ "خطیبِ اعظم پاکستان" کے لقب سے معروف ہیں۔ آپ کا شجرہ نسب یوں ہے: حضرت علامہ حافظ محمد شفیع اوکاڑوی بن حاجی شیخ کرم الہٰی بن شیخ اللہ دتا بن شیخ امام الدین (رحمہم اللہ تعالیٰ)۔ آپ کا تعلق ایک دیندار گھرانے سے تھا۔
ولادتِ با سعادت
آپ کی ولادت 1929ء میں مشرقی پنجاب (انڈیا) کے علاقے کھیم کرن (ضلع ترن تارن) میں ہوئی۔ آپ نے بچپن ہی سے اپنی ذہانت اور نیکی کے نقوش نمایاں کر دیے تھے۔
تحصیلِ علم و فضل
آپ نے ابتدائی و مڈل کی تعلیم اپنے آبائی علاقے کھیم کرن میں حاصل کی۔ قیامِ پاکستان کے وقت آپ کا خاندان ہجرت کر کے اوکاڑہ (پنجاب) منتقل ہو گیا۔
آپ نے دارالعلوم اشرف المدارس اوکاڑہ میں شیخ القرآن علامہ غلام علی اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ سے کسبِ فیض کیا۔
بعد ازاں، مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں "غزالیِ زماں" حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی زیرِ نگرانی تمام علومِ دینیہ کی تکمیل کی اور سندِ فراغ حاصل کی۔
بیعت و خلافت
روحانی بالیدگی کے لیے آپ نے آستانہ عالیہ شرق پور شریف کا رُخ کیا اور وقت کے ولیِ کامل حضرت میاں غلام اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے۔
ذکرِ شہدائے کربلا اور منفرد اسلوبِ بیان
جب بھی محافل میں ذکرِ امام حسین علیہ السلام اور ذکرِ شہدائے کربلا کی بات ہوتی ہے، تو ہر خاص و عام کی زبان پر علامہ مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ کا نام بے ساختہ آ جاتا ہے۔ صرف پاکستان یا برصغیر ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے، وہاں واقعہ کربلا بیان کرنے والوں میں آپ کا نام سرِ فہرست پایا جاتا ہے۔
اشعار کی آمیزش: آپ کا طرزِ کلام، پُر اثر گفتگو اور واقعہ بیان کرتے ہوئے مناسب جگہوں پر برجستہ اشعار کی آمیزش آپ کی تقریر کی نمایاں پہچان تھی۔
سحر انگیز اثر: آج بھی جب ان کے بیانات کی ریکارڈنگ چلائی جاتی ہے، تو پوری محفل پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے اور سامعین مکمل یکسوئی اور ڈوب کر ان کا بیان سنتے ہیں۔
ملی خدمات اور استقامت
اللہ تعالیٰ نے آپ کو حسنِ صورت کے ساتھ ساتھ حسنِ گفتار کی دولتِ لازوال سے نوازا تھا۔ آپ مبلغِ اسلام، مصلحِ امت اور عظیم مفکر تھے۔
عشقِ رسول ﷺ کی ترویج: آپ نے اپنی خطابت سے لاکھوں دلوں کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ، محبتِ صحابہ و اہلِ بیت اور اولیاء اللہ کی عقیدت سے منور کیا۔
تحریکات میں حصہ: آپ نے تحریکِ ختمِ نبوت میں قید و بند کی صعوبتیں جھلیں اور تحریکِ نظامِ مصطفیٰ ﷺ میں بھرپور کردار ادا کیا۔
ایک عالمی ریکارڈ: آپ نے اپنے چالیس سالہ دعوتی دور میں 18 ہزار سے زائد اجتماعات سے خطاب کیا، جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔
وصالِ باکمال
تقریباً 55 برس تک دینِ متین کی بے لوث خدمت کرنے کے بعد، 21 رجب المرجب 1404ھ مطابق 24 اپریل 1984ء بروز منگل، صبح اذانِ فجر کے بعد با آوازِ بلند درود شریف پڑھتے ہوئے آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
اللہ تعالیٰ حضرت علامہ مولانا حافظ محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کے فیضان کو عام فرمائے۔ (آمین)
x
.jpg)