کیا کسی شہری کو بغیر عدالتی فیصلے کے دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے؟

 

کیا کسی شہری کو بغیر عدالتی فیصلے کے دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے؟

Can a citizen be declared a terrorist without a court decision? by Kashif Baloch

تحریر: کاشف بلوچ

آئینِ پاکستان، دہشت گرد قرار دینا، بغیر عدالتی فیصلہ، بنیادی حقوق، آرٹیکل 10 اے، منصفانہ ٹرائل، شہری حقوق، پاکستان کا آئین

آئینِ پاکستان ہر شہری کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے اور ریاستی نظام کو آئینی حدود کا پابند بناتا ہے۔ انہی حدود میں ایک اہم اصول یہ ہے کہ کسی بھی شہری کو بغیر عدالتی فیصلے کے دہشت گرد قرار دینا آئینی طور پر درست نہیں۔ قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ الزام کو سزا یا فیصلے کے طور پر پیش کیا جائے۔

آئینِ پاکستان کیا کہتا ہے؟

آرٹیکل 4 – قانون کے مطابق سلوک کا حق

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 4 اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ہر شہری کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔ کسی شخص کو بغیر قانونی کارروائی کے مجرم یا دہشت گرد قرار دینا اس آئینی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

آرٹیکل 10 اے منصفانہ ٹرائل کا آئینی حق

آرٹیکل 10-A ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل اور شفاف سماعت کا حق دیتا ہے۔ آئین واضح کرتا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بغیر کوئی شہری مجرم نہیں ہو سکتا۔

آرٹیکل 14 – انسانی وقار اور عزتِ نفس کا تحفظ

آئین انسانی وقار کو ناقابلِ تسخیر قرار دیتا ہے۔ کسی شہری کو عوامی سطح پر دہشت گرد کہنا اس کی عزت، شہرت اور نجی زندگی کو متاثر کرتا ہے، جو آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔

آرٹیکل 25 – قانون کے سامنے برابری

آرٹیکل 25 کے مطابق تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ کسی فرد کو بغیر عدالتی فیصلے کے مجرم قرار دینا مساوات کے آئینی اصول کی نفی کرتا ہے۔

آرٹیکل 175(3) – عدلیہ کی آزادی

آئینِ پاکستان کے تحت جرم ثابت کرنا اور سزا دینا صرف عدلیہ کا اختیار ہے۔ غیر عدالتی سطح پر کسی شہری کو دہشت گرد قرار دینا عدالتی اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہے۔

الزام اور فیصلہ: آئینی فرق کو سمجھنا ضروری ہے قانونی طور پر الزام اور جرم ثابت ہونا دو مختلف مراحل ہیں۔ آئینِ پاکستان اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی الزام کو عوامی سطح پر فیصلے کی شکل دی جائے۔ ایسا عمل نہ صرف شہری کے بنیادی حقوق متاثر کرتا ہے بلکہ انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

 آئین کی بالادستی ہی اصل انصاف ہے

:آئینِ پاکستان کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ

کسی شہری کو بغیر عدالتی فیصلے کے دہشت گرد قرار نہیں دیا جا سکتا

منصفانہ ٹرائل ہر شہری کا آئینی حق ہے

عدالتی فیصلے سے پہلے عوامی بیانات میں احتیاط لازم ہے

ایک مضبوط جمہوری معاشرہ وہی ہوتا ہے جو آئینِ پاکستان، قانون کی حکمرانی اور شہری حقوق کا مکمل احترام کرے۔

کیا کسی شہری کو بغیر عدالتی فیصلے کے دہشت گرد کہا جا سکتا ہے؟

آئینِ پاکستان کی روشنی میں جانیں کہ کیا کسی شہری کو بغیر عدالتی فیصلے کے دہشت گرد قرار دینا قانونی اور آئینی طور پر درست ہے یا نہیں۔

آئین پاکستان، شہری حقوق، منصفانہ ٹرائل، آرٹیکل10 اے، دہشت گردی کا الزام، پاکستانی قانون

Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !