نجم ملت حضرت علامہ مفتی محمد الیاس رضوی اشرفی رحمۃ اللہ علیہ

 

نجم ملت حضرت علامہ مفتی محمد الیاس رضوی اشرفی رحمۃ اللہ علیہ

Mufti Muhammad Ilyas Rizvi Ashrafi

تحریر: محمد شاہ رخ فیروزقادری
فقیہ العصر، شیخ الحدیث والتفسیر، استاذ العلماء والفضلاء، یادگارِ اسلاف، سند الفقہاء حضرت علامہ مفتی محمد الیاس رضوی اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کی ذاتِ گرامی عصرِ حاضر میں علم و عمل کا ایک ایسا نمونہ تھی جس سے ایک جہاں فیضیاب ہوا۔ وہ ایک فرد نہیں بلکہ ایک عہد، ایک تحریک اور علمِ دین کی ایک ایسی توانا آواز تھے جس نے علم و عرفان کے دیئے روشن کیے۔ آپ کی زندگی اخلاص، سادگی اور اسلاف کی یادگار روایات کا مظہر تھی، جس کا ہر لمحہ قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صدا بلند کرتے ہوئے گزرا۔
حصولِ تعلیم اور اساتذہ :
 حضرت علامہ مفتی محمد الیاس رضوی رحمۃ اللہ علیہ نے دارالعلوم امجدیہ سے دورہ حدیث سے فراغت حاصل کی جبکہ شارحِ بخاری علامہ غلام رسول سعیدی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور مناظر اسلام مفتی سعید احمد اسد صاحب آپ کے اساتذہ میں شامل ہیں۔
بیعت و خلافت:
 آپ سرکارِ کلاں حضرت علامہ سید اظہار اشرف اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے۔
تعلیمی و تنظیمی خدمات
 آپ نے حنفیہ مسجد سے درسِ نظامی کا آغاز کیا اور پھر "جامعہ نضرۃ العلوم" (شو مارکیٹ، کراچی) جیسا عظیم ادارہ قائم فرمایا۔ یہ ادارہ آج پاکستان کے نمایاں مدارس میں شمار ہوتا ہے جہاں سے فارغ التحصیل علماء دنیا بھر میں دینِ متین کی خدمت کر رہے ہیں۔ آپ نے ہمیشہ اخلاص اور للہیت کو شعار بنایا؛ نہ کبھی تقریر کا معاوضہ طلب کیا اور نہ ہی دینی خدمات کے بدلے دنیاوی فائدے کی تمنا کی۔
تصانیف: ایک علمی شاہکار
حضرت علامہ مفتی محمد الیاس رضوی اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے پیچیدہ مسائل کے حل، عشقِ رسول ﷺ کی چاشنی اور فقہی بصیرت کا نچوڑ ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔ آپ کی گراں قدر تصانیف کے نام درج ذیل ہیں:
 بہارِ علمِ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
 بہارِ میلاد
 بہارِ اسلام حصہ اول
 بہارِ اسلام حصہ دوم
 بہارِ دعا
 بہارِ درود شریف
خزینہ رحمت
خزینہ نسواں مع عورتوں کی نماز
 فاتحہ کا طریقہ
اتباعِ سنت کی اہمیت
 حقیقتِ استعانت
تقریبات کے ناسور
 شانِ قلمِ امام احمد رضا (رحمۃ اللہ علیہ)
 خزینہ نیت
خزینہ مسواک
] ایصال ثواب (سوالات و جوابات)
 اچھے ماحول کی برکتیں
 اَلْمُعَلِّمْ وَالْمُتَعَلِّمْ
 اَلْأَسْیَافُ لِأَعْدَاءِ الْأَمْوَاتِ الدَّلَائِلُ السَّنِیَّةُ فِی صَلَاةِ الْحَنَفِیَّةِ الْمَعْرُوْف
صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے محبت کا ایک انداز دیکھئے کہ جیسے حضور صدرالشریعہ نے اپنی کتاب کا نام ”بہارِ شریعت“ رکھا اسی طرح مفتی الیاس رضوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتابوں کے نام بہارِ میلاد، بہارِ علمِ مصطفیٰ ﷺ، بہارِ اسلام اوربہارِ دعا رکھے۔
اوصاف و کردار
 سادگی، عاجزی، تقویٰ اور ملنساری آپ کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ آپ اپنے تلامذہ کے ساتھ والد کی طرح شفقت فرماتے؛ ان کے نکاح پڑھانا، دستار بندی کرنا اور ان کی خوشیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا، کوئی طالب علم اگر بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کے لئے خود جانا آپ کا شیوہ تھا۔ آپ نے ہمیشہ اپنے متعلقین کو اخلاص کی تلقین کی، یہاں تک کہ تعویذات کی اجازت دیتے ہوئے بھی سختی سے حکم دیا کہ اسے معاوضے کے بغیر خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ آپ کا اندازِ تدریس اتنا جامع اور دلنشیں تھا کہ طلبہ کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات دورانِ درس ہی خود بخود حل ہو جاتے تھے۔
علمی مقام اور تفقہ فی الدین
 اللہ تعالیٰ نے آپ کو گہری دینی سمجھ اور "تفقہ فی الدین" کی دولت سے مالا مال فرمایا تھا۔ آپ محض مدرس ہی نہیں بلکہ جید مفتی اور محدث بھی تھے۔ مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر رضوان نقشبندی صاحب اکثر مفتی صاحب علیہ الرحمہ کا تعارف ”فقیہ  العصر“ کے لقب کے ساتھ کراتے ہیں۔ آپ کی فقہی بصیرت کا یہ عالم تھا کہ کراچی کی بلند پایہ صاحبِ فتویٰ شخصیات بھی پیچیدہ مسائل میں آپ سے مشورے کے بعد فتویٰ جاری کرنا باعثِ اطمینان سمجھتی تھیں۔ آپ بیک وقت مفسرِ قرآن، محدث، مدرس، مبلغ، مدبر اور فقیہِ عصر تھے۔
مفتی علی اصغر عطاری صاحب اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھتے ہیں
"مفتی اہل سنت ،حضرت مفتی الیاس رضوی صاحب کے اچانک انتقال کی خبر پر دل رنجیدہ ہے۔ مرحوم شہر کراچی میں علم کی شمع روشن کیے ہوئے تھے ہزاروں علماء کے استاد اور ایک متحرک شخصیت کے مالک تھے۔ اسی ہفتے کراچی کی ایک بلند پایا صاحب فتوی شخصیت سے ملاقات ہوئی تو فرمایا کہ میں اہم مسئلہ میں مفتی الیاس رضوی صاحب کی رائے کو لے کر پھر فتوی جاری کرتا ہوں“۔
دو یادیں
1)  1994 میں ہمارے علاقے جوڑیابازار میں مدرسہ نورِ مدینہ تعلیم القرآن قائم ہوا ہم اُس مدرسہ کے اوائل کے طلباء میں سے ہیں۔ ہمارے استاذ محترم حضرت علامہ مولانا محمد عاصم قادری عطاری صاحب ہمیں ایک کتاب سے دعائیں یاد کراتے تھے اس کتاب کا نام تھا ”بہارِ دعا“ اور کتاب کے مصنف کا نام تھا ”مفتی محمد الیاس رضوی“ پاکٹ سائز کتاب تھی جو مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ تھی۔ بچپن میں سمجھتے تھے کہ یہ کتاب مولانا الیاس عطار قادری رضوی صاحب کی ہے لیکن جیسے جیسے بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ یہ کتاب حضرت علامہ مفتی محمد الیاس رضوی صاحب کی ہے۔ یوں ہم روحانی طور پر حضرت کے شاگرد ہیں۔
2)  غالباً سن 2003ء کی بات ہے، رنچھوڑ لائن کی صابری مسجد میں نمازِ جمعہ کا وہ منظر آج بھی میری یادوں میں تازہ ہے جب ہندوستان سے سلسلہ اشرفیہ کے عظیم بزرگ، سرکارِ کلاں حضرت علامہ سید اظہار اشرف اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کی آمد پر مسجد کے گیٹ پر امام مسجد ، انتظامیہ اور سلسلہ اشرفیہ کے وابستگان استقبال کے لئے منتظر کھڑے تھے۔ مہمانِ گرامی کے پہنچنے میں چند منٹ کی تاخیر ہوئی تو امامِ مسجد علامہ قاری عالم حسین نقشبندی نے نہایت فراخ دلی اور خوبصورت القابات کے ساتھ مفتی الیاس رضوی صاحب کو اپنی جگہ منبر پر خطاب کی دعوت دی، جسے انہوں نے قبول فرمایا۔ اکابرین کا ایک دوسرے کو اس طرح عزت دینا اور اپنی جگہ پیش کرنا اخلاص و تواضع کی ایسی اعلیٰ مثال تھی جو آج کے دور میں نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اسلاف کی ان روشن روایات اور باہمی احترام کے کلچر کو دوبارہ زندہ کریں، کیونکہ علم کی اصل روح ادب اور ایک دوسرے کی قدردانی میں ہی پوشیدہ ہے۔
چل دیئے تم آنکھ میں اشکوں کا دریا چھوڑ کر
بالآخر وہ گھڑی آ پہنچی جس نے پوری علمی دنیا کو سوگوار کر دیا وفات سے ایک رات قبل بھی آپ نے ہجرت کالونی میں قائم جامعہ علویہ غوثیہ میں افتتاح بخاری کی تقریب میں بخاری شریف کا ابتدائی درس دیا۔ 20 اپریل 2026 بروز پیر (مطابق 2 ذی قعدہ 1447ھ) دنیائے اسلام، بالخصوص سرزمینِ پاکستان ایک ایسی علمی و روحانی شخصیت سے محروم ہو گئی جس کا خلا صدیوں تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔ شیخ الحدیث والتفسیر، استاذ العلماء والفضلاء، حضرت علامہ مفتی محمد الیاس رضوی اشرفی علیہ الرحمہ کی رحلت محض ایک فرد کا بچھڑنا نہیں، بلکہ علم و فقاہت کے ایک درخشاں عہد کا خاتمہ ہے۔
عالِم کی موت، کہتے ہیں عالَم کی موت ہے
عالَم جبھی تو سارا پریشان ہے آج بھی
حافظ محسن رضا قادری کی فیس بک پوسٹ کا خلاصہ ہے کہ 
حضرت مفتی صاحب کی رحلت اور تدفین کی تواریخ میں نسبتوں کا ایک مبارک سنگم نظر آتا ہے۔ آپ کا وصال 20 اپریل (بروز پیر) کو ہوا، جو عیسوی تقویم کے مطابق سرورِ کائنات ﷺ کا 1455واں یومِ ولادت ہے۔ مزید برآں، آپ کی تدفین 3 ذوالقعدہ (بروز منگل) کو طے پائی، جو کہ آپ کے مربی و پیشوا حضور صدر الشریعہ کا یومِ وصال بھی ہے۔ قدرت کا یہ انتخاب آپ کی عشقِ رسول ﷺ اور اپنے اکابرین سے والہانہ عقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 
نمازِ جنازہ: عقیدت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر
آج مورخہ 21 اپریل 2026 بروز منگل صبح 11 بجے کراچی کے محمدی گراؤنڈ (عثمان آباد) میں آپ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس کی امامت مفتیِ اعظم پاکستان پروفیسر مفتی منیب الرحمن صاحب نے فرمائی۔ اس موقع پر مفتیِ اعظم پاکستان نے رقت آمیز لہجے میں فرمایا:
”حضرت کا رخصت ہونا میرے لیے بہت بڑا صدمہ ہے، یہ وہ خلا ہے جو پورا نہیں ہو سکتا“۔
 کثیر تعداد میں علمائے کرام، مدارس کے طلباء، تنظیمات کے عہدیداران اور عوامِ اہلسنت نے علامہ مفتی الیاس رضوی رحمۃ اللہ علیہ کے کے جنازے میں شرکت کی۔ 
اللہ کریم حضرت مفتی محمد الیاس رضوی صاحب کی حیاتِ مستعار کی تمام علمی و دینی خدمات کو اپنی بارگاہِ صمدیت میں قبول فرمائے،  ان کی قبر پر اپنی رحمتوں اور انوار کی بارش فرمائے اور تمام پسماندگان و تلامذہ کو ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی ہمت اور استقامت عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
از:  محمد شاہ رخ فیروز قادری 
نائب امیر ضلع جنوبی، جماعت اہلسنت کراچی
اس تحریر کو لکھنے میں معاونت کرنے پر علامہ عمران عالم قادری صاحب کا تہٖ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
جو کچھ بیان ہوا وہ آغازِ باب تھا

Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !