وقت کے پاس جو مرہم ہے،سو ہے

شاعر: فیضان علی فیضی
 
وقت کے پاس جو مرہم ہے،سو ہے
اس دل  میں جو غم ہے ،سو ہے
گردشِ ایام سے بیزار تو نہیں ہوں
مالک کا جو  کرم ہے، سو  ہے
تیری آنکھوں کی نمی کو دیکھ رہا ہوں
تیرے لفظوں کا جو بھرم ہے ، سو ہے
تیری آنکھیں سجائیں صرف خواب میرے
یہ خواہش گر جرم ہے ، سو ہے
تیرے ساتھ کا یقین  ہے سرمایہ
جدائی کا جو سفر ہے ، سو ہے
بچھڑ کر تجھ سے ہو گی لمبی عمر میری
تیرے گمان کا جو وہم ہے، سو ہے

وقت کے پاس جو مرہم ہے،سو ہے اس دل  میں جو غم ہے ،سو ہے


Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !