شاعر: فیضان علی فیضی
وقت کے پاس جو مرہم ہے،سو ہے
اس دل میں جو غم ہے ،سو ہے
گردشِ ایام سے بیزار تو نہیں ہوں
مالک کا جو کرم ہے، سو ہے
تیری آنکھوں کی نمی کو دیکھ رہا ہوں
تیرے لفظوں کا جو بھرم ہے ، سو ہے
تیری آنکھیں سجائیں صرف خواب میرے
یہ خواہش گر جرم ہے ، سو ہے
تیرے ساتھ کا یقین ہے سرمایہ
جدائی کا جو سفر ہے ، سو ہے
بچھڑ کر تجھ سے ہو گی لمبی عمر میری
تیرے گمان کا جو وہم ہے، سو ہے
.jpg)