حضرت سید محمد عثمان مروندی المعروف لال شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: محمد شاہ رخ فیروز قادری
برِ عظیم پاک و ہند کی دینی و تہذیبی تاریخ میں سرزمینِ سندھ کے افق پر چمکنے والے حضرت سید محمد عثمان مروندی رحمۃ اللہ علیہ ایک ایسی ہمہ گیر انقلابی شخصیت ہیں جنہوں نے تصوف کو محض گوشہ نشینی سے نکال کر معاشرتی اصلاح کا موثر ذریعہ بنایا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی شریعت، طریقت اور علم و عمل کا ایک ایسا حسین سنگم ہے جس نے صدیوں سے لاکھوں دلوں کو منور کر رکھا ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت و وصال کی تاریخوں میں اگرچہ اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم مشہور قول کے مطابق آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 538 ہجری میں وادیِ مروند میں ہوئی جو اس وقت روس و افغانستان کے درمیان واقع تھی اور اب آذربائیجان کا حصہ ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے والدِ محترم حضرت سید کبیر ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ اور والدہ ماجدہ نہایت صاحبِ تقویٰ اور پرہیزگار ہستیاں تھیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلہ نسب حضرت اسماعیل بن امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ سے ہوتا ہوا سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے جا ملتا ہے۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کو آپ کے اصل نام سے زیادہ القابات سے شہرت ملی جن میں "لال" کا لقب آپ رحمۃ اللہ علیہ کے حسن و جمال اور سرخی مائل چہرے کی وجہ سے مشہور ہوا، جبکہ "شہباز" کا لقب بلندیِ پرواز اور روحانی کمالات کی بنا پر آپ رحمۃ اللہ علیہ کے پیر و مرشد حضرت ابواسحاق سید ابراہیم قادری رحمۃ اللہ علیہ نے عطا فرمایا۔ قلندر اس سالک کو کہتے ہیں جو دنیا کی شہرت، خود نمائی اور خواہشاتِ نفسانی سے بے نیاز ہو کر صرف عشقِ الٰہی میں مست رہے۔ عام طور پر قلندر کے تصور کے ساتھ صرف جذب و مستی کو جوڑا جاتا ہے، لیکن آپ رحمۃ اللہ علیہ ایک عظیم عالم اور فقیہ بھی تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے محض 7 سال کی عمر میں قرآن حفظ کیا اور 24 سال کی عمر میں تفسیر، حدیث اور فقہ پر مکمل دسترس حاصل کر لی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی چار کتب میزانِ صرف، اجناس، عقد، اور زید، جو فقہ اور عربی گرامر کے موضوع پر تھیں، انگریز دور سے پہلے تک مدارس کے نصاب کا حصہ تھیں۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ملتان اور سیہون میں تدریسی فرائض انجام دیے اور سیہون میں "مدرسہ فقہاء الاسلام" قائم کیا جو اپنے وقت میں علم کا عظیم مرکز تھا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ فقہ میں امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد تھے اور طریقت میں سلسلہ قادریہ میں حضرت ابواسحاق سید محمد ابراہیم قادری رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت و مجاز تھے۔ تبلیغِ دین کے لیے آپ رحمۃ اللہ علیہ نے طویل سفر اختیار کیے اور حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ، حضرت بہاؤ الدین زکریا سہروردی رحمۃ اللہ علیہ اور مخدوم جہانیاں جہان گشت رحمۃ اللہ علیہ جیسے جلیل القدر اولیاء کے ہمراہ وقت گزارا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے کربلا معلیٰ، مشہد، بغداد اور حجازِ مقدس کی زیارات کیں اور بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضری دی۔ پانی پت میں حضرت بوعلی شاہ قلندر رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو سندھ جانے کا مشورہ دیا جس کے بعد آپ رحمۃ اللہ علیہ مکران کے راستے سندھ میں داخل ہوئے اور پنج گور کے مقام پر بے شمار لوگوں کو اسلام کی روشنی سے منور کیا۔
جب آپ رحمۃ اللہ علیہ 100 سال کی عمر میں سیہون پہنچے، تو وہاں کفر، بت پرستی اور اخلاقی برائیاں عام تھیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے لوگوں کو توحید و رسالت کی دعوت دی، نمازِ باجماعت کی تاکید کی اور سنتِ رسول ﷺ کی پابندی کا حکم دیا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے 112 سال کی طویل عمر پائی اور 650 ہجری شعبان المعظم میں وصال فرمایا۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد قابض انگریز نے شعوری طور پر خانقاہوں اور مزارات کے نظام کو تباہ کیا۔ مدارس کو بند کر کے ہزاروں علماء و مشائخ کو شہید کیا گیا اور عوامی عقیدت کو غلط رنگ دینے کے لیے مزارات پر دھمال، منشیات اور غیر شرعی رسومات کو فروغ دیا گیا تاکہ ان مراکز کا انقلابی اور علمی رنگ ختم ہو جائے۔
آج وقت کا اہم تقاضا ہے کہ ہم حضرت سخی لال شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کو قرآن و سنت کے مطابق ان کی اصل حالت میں بحال کریں۔ مزارات کو محض میلوں کی جگہ بنانے کے بجائے دوبارہ علم، فقہ، اور ہدایت کا مرکز بنایا جائے تاکہ یہ مقامات انسانیت کی حقیقی رہبری کا فریضہ انجام دے سکیں اور صوفی ازم کے نام پر پھیلائی گئی خرافات کا خاتمہ ہو سکے۔
.jpg)