صرف بیٹی ہی نہیں بیٹے کی تربیت بھی اہم ہے۔
(تحریر: ثمینہ طاہر)
آج کی بیٹی مستقبل کی ماں اور آج کا بیٹا مستقبل کا باپ، اور بہترین ماں باپ بننے کی خواہش توہرکسی کی ہو گی۔ پر یہ جب ہی ممکن ہے جب دو ہا تھ مل کر ایک سا تھ تا لی بجائیں۔ فضاء خوشیوں سے بھری ہوگی۔لیکن اگرایک منفی سوچ اور دوسرا مثبت سوچ رکھتا ہے تو بہترین مستقبل کے ماں باپ بننے کانہ سوچیں۔ اکثر شوہر کا کردار شادی کے بعد ان کے رویوں سے معملوم ہو جاتا ہے کہ وہ کیسی تربیت "صفات" کے مالک ہیں یا ان کے اندر کتنی صلاحیت ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنی زمہ داریوں کو بخوبی خوش اسلوبی سے نبھا سکیں گے،اور اچھا سربراہ ثابت کرسکیں گے۔ اگر اچھی سوچ کے ما لک ہوں گے تو مردانہ وار ہر حالات کا سا منا اعتماد کے ساتھ کر سکیں گے کیونکہ ان کی تربیت کی بنیاد تو جہ سے رکھی گئ ہوگی۔ اپنی تعلیم سے، اپنی تربیت سے اپنی فمیلی کو وہ ضرور سا یہ دار درخت کی مانند سکون فراہم کریگا۔
لیکن بغض دفعہ آپ باہر تو بہت پر اخلاق دکھائی دیتے ہوں گے مگر گھر پرحاکمانہ طورطریقہ ، صرف اپنی ذات کا خیال، سمجھوتے کا تو سوال ہی نہیں، بس اس کی فکر کہ ہمیں ہر وقت کیا چا ہیے، باقی سب غلط، لیکن وقت ثابت کردیتا ہے کہ آپ کی تربیت خاص طور پر کس زاویے سے کی گی ہے۔ اچھی توجہ والے دین، دنیا میں انعام کے حقدار ہونگے۔
"عمل سے زندگی بنتی ہے"
جنت بھی جہنم بھی
.jpg)