کہانی :بیتے ہوئے کچھ پل (تحریر: ثمینہ طاہر)

 کہانی :بیتے ہوئے کچھ پل  


(تحریر: ثمینہ طاہر)


اسکول سے آنے کے بعد جلدی سے کپڑے بدلے اور کھانا تیار ملتا تھا۔ ہماری ملازمہ پہلے سے سب تیار رکھتی تھی کیونکہ والدہ حیات نہیں تھیں۔ ابو نے بڑے پیار اور محبت سے ہمارا وقت بتایا اور قدم قدم پر نصیحتیں کیں۔ پیار بھری ڈانٹ، واہ کیا وقت تھا! اس وقت پرواہ نہ تھی کہ کل کیا ہوگا؟

پھر دبے قدموں بچپن گزرا اور ہم سیکنڈری میں آ پہنچے۔ ابو کی ذمہ داری بڑھ گئی تھی، وہ ڈسپنسری بھی چلاتے تھے اور ساتھ ساتھ ہم پر پوری توجہ بھی دیتے تھے۔ سب بہن بھائی ابو کے بہت قریب تھے اور ابو کو شدت سے احساس ہوا کہ گھر میں ماں کا ہونا بہت ضروری ہے، اس لیے انہوں نے بڑی امی کو بلا لیا۔ وہ بھی بہت محبت والی، دل کی صاف اور عمدہ عورت تھیں۔ وہ مزے مزے کے کھانے تیار کر کے کھلایا کرتی تھیں لیکن نوکر ان کے آنے سے ناخوش تھے کیونکہ اب ان کی من مانی نہیں چل پاتی تھی اور سب کام بڑی امی کے ہاتھ میں آگئے تھے۔

ہمارے بڑے بھائی جو ساری زندگی باہر رہ رہے تھے، ان کی اپنی ماں ان کی طرف سے بے خبر ہو گئی تھیں کیونکہ وہ اپنی ماں کا بہت کم خیال کیا کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ ہم میں مگن ہو گئی تھیں اور ہم سب بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ہم کبھی ان کو پرانی یادیں نہیں دلاتے تھے، مگر کچھ لوگ والدہ کو سمجھانے کی کوشش کرتے تو وہ سب کو خاموش کرا دیتیں۔ ہم سب آپس میں بہت خوش تھے۔

پھر والد کو بزنس میں دھوکہ ہو گیا؛ جس بچے پر انہوں نے کبھی رحم کیا اور اسے پڑھایا، اسی نے ابو کو بہانے سے لوٹ لیا۔ اس بات کا ابو نے بہت غم کیا کہ میرے بچے پڑھ رہے ہیں، اب میں انہیں آگے کیسے پڑھا سکوں گا اور دیگر اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ وہ آخر بیمار پڑ گئے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی امانت لے لی۔

ہم سب ٹوٹ کر رہ گئے۔ ہمارے بھائی نے کالج کے ساتھ ساتھ اپنا کام سیکھنا شروع کر دیا کیونکہ وہ ماشاءاللہ بہت ذہین تھے۔ وقت گزرتا رہا اور پھر وہ سعودیہ چلے گئے۔ گھر میں ہم اور ماں رہ گئیں اور عزت کے ساتھ وقت گزرتا رہا۔ پھر ایک اچھے کالج میں ہمارا داخلہ ہو گیا، نمبر اچھے تھے اس لیے پڑھائی پر توجہ مرکوز رہی۔

بھائی صاحب نے سمجھایا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تم کو پیا گھر بھیجا جائے۔ امی کے قریبی لوگوں میں ہی رشتہ طے کیا گیا؛ انہیں علم تھا کہ والد حیات نہیں اور صرف بھائی ہی سرپرست ہے۔ لیکن دنیا کا دستور ہے، منہ پر سب اچھے ہوتے ہیں، بعد کا اللہ حافظ۔ کراچی سے باہر چلے گئے، پیچھے ماں اور بہن کی فکر تھی جو اکیلی رہ گئی تھیں۔ بڑی امی نے کہا کہ اسی شہر میں کام کر لو تاکہ ہم بھی محفوظ رہیں اور آپ کا ساتھ بھی رہے۔

وہ وقت اللہ کی مہربانی سے آیا اور میری پیاری بچی نے شہر کے بڑے ہسپتال میں جنم لیا۔ ماں نے ہی تمام اخراجات اٹھائے اور سب نے کہا کہ بہت پیارا بچہ ہے۔ شروع کے کئی سال ماں کے ساتھ رہے، پھر ماشاءاللہ میرے بھائی نے گھر دیا اور کہا کہ والدہ کا دھیان رکھنا اور اپنی فیملی کے ساتھ سکون سے رہو۔

اچھے دن بیت رہے تھے کہ والدہ کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے ایک شادی پر گئیں، وہاں سے واپسی پر طبیعت زیادہ خراب ہوئی اور وہ وفات پا گئیں۔ مجھ پر ذمہ داری آن پڑی تو میں نے اپنی اکیلی بہن کو اپنے سائے میں رکھا۔ ہم سب مل کر رہتے تھے اور سب تعریف کرتے تھے کہ بہن اور بہنوئی دونوں بہت خیال رکھتے ہیں۔ بھائی بھی اس اطمینان سے رہا کہ وہ اپنا کام دھیان سے کر سکا۔

وقت کے ساتھ لوگوں نے بھائی کو وہیں پر شادی کے لیے مجبور کر دیا اور ان کی شادی کرا دی گئی۔ مگر ان کی اپنے سسرال والوں کے ساتھ ذہنی وابستگی نہ ہو سکی کیونکہ ان کی سوچ بالکل مختلف تھی۔ بھائی کو وہ عزت نہ ملی، ان کے رویوں نے دل کو بہت ٹھیس پہنچائی اور وہ پریشان رہنے لگے۔ دونوں کے تعلقات خراب ہوتے چلے گئے، آخر بھائی بیمار ہو گیا اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

اللہ اس کی مغفرت کرے، ہمیں بھائی کی صورت تک دیکھنا نصیب نہ ہوئی۔ ان کے دل میں اتنی نفرت بھری گئی کہ وہ پلٹ کر اپنی مرضی سے جی نہ سکا۔ اللہ لوگوں کو نیک ہدایت دے، دنیا میں سب کچھ رہ جائے گا—محل ہو یا مکان، سب خالی ہاتھ جاتے ہیں۔ کاش لوگ اپنی سوچ سے آگے بڑھ کر سوچیں۔ بھائی کی یاد آتی ہے مگر صبر، صرف صبر، کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

 

Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !