زاوئیے سوچ کے بدلیں گے جدھر جائیں گے

 غزل
شاعر: ڈاکٹر شوذب کاظمی کی غزلیں


زاوئیے سوچ کے بدلیں گے جدھر جائیں گے
فکرِ نو ساتھ لیے اہلِ ہنر جائیں گے

کہہ دیا کس نے ، کہ ٹوٹیں گے بکھر جائیں گے
چھوڑ کر نسلوں پہ ، بھرپور اثر جائیں گے

جس طرف جائیں گے ہم ، سینہ سِپر جائیں گے
اور ہیں ، جو کڑے لمحات سے ڈر جائیں گے

کب یہ سوچا تھا کہ یوں پریم نگر جائیں گے
دور سے ہاتھ ہِلائیں گے ، گزر جائیں گے

ہم سے درویش صفت ، پار اتر جائیں گے
تیرے بخشے ہوئے ، سب زخم بھی ، بھر جائیں گے

بّوترابی ہے ، تو مت سوچ ، اے پیوندِ تراب
*مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے* 

سوچتے ہی نہیں ، دولت کے بڑھانے والے
یہ محل ، مال منارے یہیں دھر جائیں گے

چاندنی راتوں میں ، اکثر یہ خیال آتا ہے 
یہ ستارے مری آنکھوں میں اتر جائیں گے

دُور اُفتادہ جزیروں پہ بھی اک دن ، شوذب
ہم حسیں موسموں کی لے کے خبر جائیں گے

Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !