غزل
شاعر: ڈاکٹر شوذب کاظمی کی غزلیں
سجاؤ ، چاند ستاروں سے شہ نشینوں کو
خراجِ حسن دیا جانا ہے حسینوں کو
غرض ہی حادثے سے کیا تماش بینوں کو
مکان کی نہیں پرواہ کچھ مکینوں کو
عزیزو دینا نہ تم اہمیت کمینوں کو
ہمیشہ لعنتی ہی جاننا لعینوں کو
جنہیں شعور نہیں حسن کی لطافت کا
وہ لوگ تکتے ہیں ، حیرت سے مہ جبینوں کو
اگر خدا پہ بھروسا ہو ناخداؤں کا
تو موجیں پار لگاتی ہیں خود سفینوں کو
اسی کے ہاتھ میں ہوتی ہی لفظوں کی نبضیں
جو جانتا ہو غزل گوئی کے قرینوں کو
ازل سے ساتھ ہے اپنے طبیعتِ موزوں
”ہم آسمان سے لاٸے ہیں ان زمینوں کو“
یہ طبع فقر و غنا کا کمال ہے سارا
رکھا بلندی پہ ہم بوریا نشینوں کو
جو غوطہ زن ہوئے بحرِ سخن میں ہم شوذب
تو ڈھونڈ لائے خیالات کے خزینوں کو
.jpg)