بات ، جس کا سرا نہیں ہوتا

 غزل
شاعر: ڈاکٹر شوذب کاظمی 

بات ، جس کا سرا نہیں ہوتا
اس کا کچھ مدعا نہیں ہوتا

قضا ، تیرِ قضا نہیں ہوتا 
" ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا "

نابغہ جب کوئی بچھڑ جائے
جلد پّر ، یہ خلا نہیں ہوتا

دوسروں کے جو کام أ نہ سکے 
وہ کسی کام کا نہیں ہوتا

کیوں ہمارے گلے میں پڑتا ہے
وہ جو ہم نے کِیا نہیں ہوتا

کام سے ہوتا ہے بلند انساں 
شیخیوں سے بڑا نہیں ہوتا

بانٹتا خیر ہے ، ہمیشہ بشر
باعثِ تفرقہ نہیں ہوتا

عزم کی ہے ، ضرور ہم میں کمی
 طے جو یہ مرحلہ نہیں ہوتا

چومتی میرے بھی قدم ، منزل 
گر میں رہ میں رکا نہیں ہوتا

دوستو رہروانِ زیرک کا
پل میں طے راستا نہیں ہوتا

شعر عکسِ یقین ہے شوذب
یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !