غزل
شاعر: ڈاکٹر شوذب کاظمی کی غزلیںہرچند ، بے دیار ہوں ، بے گھر نہیں ہوں میں
یہ اک نظر کا فیض ہے ، بے در نہیں ہوں میں
گو گردشِ زمانہ سے باہر نہیں ہوں میں
شکوہ بہ لب، فلک کےستم پر نہیں ہوں میں
غالب , انیس و میر کا ہمسر نہیں ہوں میں
تاہم حصارِ شعر سے باہر نہیں ہوں میں
ذوقِ سلیم رکھتا ہوں ، قیصر نہیں ہوں میں
لازم ہوں ، میرِ بزمِ سخن ور نہیں ہوں میں
تکرار کا شرف ملا مسند سے ہے مگر
"لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرّر نہیں ہُوں میں"
پیہم رواں ہوں تیرے تعاقب میں ہر قدم
ٹھہرا وفاکی راہ میں پل بھر نہیں ہوں میں
حالات سے اشارے تغیر کے تھے عیاں
اُس انقلابِ دہر پہ ششدر نہیں ہوں میں
ہرگز نہیں ہوں صورتٍ صیّاد گھات میں
بیٹھا کسی مچان کے اوپر نہیں ہوں میں
کیسا بھی وقت ہو میں حقیقت پسند ہوں
وہم و گماں کی راہ کا خوگر نہیں ہوں میں
کانٹے کبھی بچھائے نہیں رہٍ گزار میں
شوذب،کسی کی راہ کاپتھرنہیں ہوں میں
.jpg)