غزل
شاعر: ڈاکٹر شوذب کاظمی
یوں آدمی کو ، زمانے نے زیرِ دام لیا
منافقت میں جیا اور ریا سے کام لیا
ہمیشہ ہم نے ، سسکتا ہوا نظام لیا
سو جو مقام لیا ، وہ برائے نام لیا
ہے لین دین کا ، بس یہ حساب اجمالاً
وہ صبح و شام لٹایا جو صبح و شام لیا
کسی نے نام کمایا ، خدا خدا کر کے
کسی نے خلق کا حق ، کر کے رام رام لیا
جہان بھر کی غلط بخشیوں کا کرتے بھی کیا
سو زیست میں سدا ، خود سے ہی انتقام لیا
خدا کے بندوں سے کی ، نیکی جس نے اے شوذب
اسی کا نام جہاں نے بہ احترام لیا
.jpg)