یوں آدمی کو ، زمانے نے زیرِ دام لیا

غزل

شاعر: ڈاکٹر شوذب کاظمی

یوں آدمی کو ، زمانے نے زیرِ دام لیا
منافقت میں جیا اور ریا سے کام لیا

ہمیشہ ہم نے ، سسکتا ہوا نظام لیا
سو جو مقام لیا ، وہ برائے نام لیا

ہے لین دین کا ، بس یہ حساب اجمالاً 
وہ صبح و شام لٹایا جو صبح و شام لیا

کسی نے نام کمایا ، خدا خدا کر کے 
کسی نے خلق کا حق ، کر کے رام رام لیا

جہان بھر کی غلط بخشیوں کا کرتے بھی کیا
سو زیست  میں سدا ، خود سے ہی انتقام لیا

خدا کے بندوں سے کی ، نیکی جس نے اے شوذب
اسی کا نام جہاں نے بہ احترام لیا
Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !