نظام کی ناکامی اور سلگتا کراچی

 نظام کی ناکامی اور سلگتا کراچی

"”گل پلازہ“ سانحے سے اٹھتے سوالات

nazaam ki naakami or salagta karachi "”gul plazah“ sanhe se athte swalat

تحریر: محمد شاہ رخ فیروز قادری

کراچی کا دل کہلانے والا علاقہ ایم اے جناح روڈ آج ایک ایسی ہولناک داستانِ غم سنا رہا ہے جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گل پلازہ، جو کبھی شہر کی تجارتی زندگی اور رونق کا مرکز ہوا کرتا تھا، آج شعلوں اور دھوئیں کی لپیٹ میں آکر ایک قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے۔ یہ حادثہ اس وقت شروع ہوا جب 17 جنوری 2026 کی رات چند دکانوں میں لگی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور چند گھنٹوں میں پوری عمارت کو خاکستر کر کے رکھ دیا۔ یہ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ وہ دکانیں جن سے ہزاروں خاندانوں کا رزق وابستہ تھا، وہ اب راکھ کا ڈھیر بن چکی ہیں۔

اس سانحے کو اب کئی گھنٹے گزر چکے ہیں اور تشویشناک بات یہ ہے کہ کم و بیش 36 گھنٹے گزر جانے کے باوجود آگ پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔ابھی (19جنوری شام7بجے) اطلاع ملی ہے کہ عمارت کی تیسری منزل پر پھر آگ بھڑک اٹھی ہے۔ اتنے طویل وقت تک آگ کا نہ بجھنا جہاں ایک طرف آگ کی شدت کو ظاہر کرتا ہے، وہیں دوسری طرف آگ بجھانے والے اداروں کی کارکردگی اور وسائل پر بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر میں، جہاں بلند و بالا عمارتیں اور گنجان آباد بازار موجود ہیں، ہمارے پاس ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے وہ جدید آلات اور حکمت عملی موجود نہیں جو وقت کی ضرورت ہے۔ تاجروں کا کروڑوں روپے کا نقصان اور املاک کا ضائع ہونا ایک ایسا معاشی دھچکا ہے جس کا ازالہ شاید کئی سالوں تک ممکن نہ ہو سکے۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ اور روح فرسا پہلو ان انسانی جانوں کا ہے جو اس وقت عمارت کے ملبے یا آگ کے حصار میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق 21 قیمتی جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں، لیکن اب بھی کئی درجن افراد لاپتہ ہیں جن کے بارے میں یہ امید کی جا رہی ہے کہ شاید قدرت کے کسی کرشمے سے وہ کہیں زندہ ہوں، مگر جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، یہ امید دم توڑتی جا رہی ہے۔ ان خاندانوں کی تڑپ اور بے بسی کا تصور کرنا بھی ناممکن ہے جو اپنے پیاروں کی واپسی کی راہ تک رہے ہیں۔ انسانی جانوں کا یہ زیاں ایک ایسا المیہ ہے جس کا مداوا کسی بھی مالی امداد یا لفظی ہمدردی سے ممکن نہیں ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست اور اداروں کی ذمہ داری سب سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔

اس سانحے نے ہمارے اداروں کی نااہلی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے اور یہ سوچ کر دکھ ہوتا ہے کہ ہم سال 2026 میں جی رہے ہیں، جہاں دنیا بلٹ ٹرینیں چلا رہی ہے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ستاروں پر کمند ڈال رہی ہے، لیکن ہم ابھی تک اس بنیادی مسئلے میں پھنسے ہوئے ہیں کہ اگر شہر میں کہیں آگ لگ جائے تو اسے بجھانے کا مناسب اہتمام تک نہیں ہے۔ تین کروڑ کی آبادی والے اس عظیم شہر میں فائر بریگیڈ کے پاس نہ تو کافی گاڑیاں ہیں، نہ پانی کی بروقت دستیابی اور نہ ہی وہ تربیت یافتہ عملہ جو اتنے بڑے پیمانے کی آتشزدگی کو فوری روک سکے۔ کیا ہم اتنے بے بس ہیں کہ اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ایک موثر نظام تک وضع نہیں کر سکے؟

ایک طرف جہاں اداروں کی کوتاہیاں واضح ہیں، وہیں دوسری طرف ہمیں اپنی عوامی لاپرواہی کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ کراچی بھر میں بجلی کے تاروں کا جو جال بچھا ہوا ہے، وہ کسی بھی وقت موت کا پھندا بن سکتا ہے۔ عمارتوں، کھمبوں اور سڑکوں پر بجلی کے تاروں کے گچھے اور بے ترتیب نظام اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے کبھی حفاظتی اقدامات کو سنجیدہ نہیں لیا۔ کراچی میں ہونے والے اکثر آتشزدگی کے واقعات کی بنیادی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جاتی ہے، اور یہ شارٹ سرکٹ ہماری اپنی ہی لاپرواہی اور غیر معیاری وائرنگ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ہم نے عارضی فائدے کے لیے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رکھا ہے اور جب کوئی بڑا حادثہ پیش آتا ہے تو ہم اس وقت جاگتے ہیں جب سب کچھ ختم ہو چکا ہوتا ہے۔

گل پلازہ کا یہ سانحہ صرف ایک عمارت کی تباہی نہیں بلکہ ہمارے نظام کی ناکامی کا ایک واضح ثبوت ہے۔ آگ بجھانے والے عملے کی بے بسی اور وسائل کی کمی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ہم نے ترقی کی دوڑ میں انسانی تحفظ کو کتنا پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ جیسے ہی چند دکانوں میں آگ لگی، اسے وہیں روک لیا جاتا؟ کیا ہمارے پاس ایسے حساس سنسرز یا خودکار نظام نہیں ہونے چاہئیں تھے جو اس تباہی کو پھیلنے سے روک سکتے؟ یہ سوالات آج ہر اس شہری کے ذہن میں ہیں جو خود کو اس شہر میں غیر محفوظ تصور کر رہا ہے، جہاں کروڑوں کا نقصان محض چند منٹوں کی غفلت کی نذر ہو جاتا ہے۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف انکوائری کمیٹیاں بنانے کے بجائے عملی طور پر ایسے اقدامات کیے جائیں جو مستقبل میں ایسے حادثات کا راستہ روک سکیں۔ شہر میں آگ بجھانے کے وسائل کو ہنگامی بنیادوں پر جدید بنایا جائے اور ہر تجارتی مرکز میں سیفٹی آڈٹ کو لازمی قرار دیا جائے۔ جب تک ہم اپنے انفراسٹرکچر کو درست نہیں کریں گے اور شارٹ سرکٹ جیسی وجوہات بننے والے تاروں کے گچھوں کو ختم نہیں کریں گے، تب تک ایسے واقعات کا خطرہ ٹل نہیں سکتا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جدید دور کے تقاضے صرف بڑی عمارتیں بنانے سے پورے نہیں ہوتے بلکہ ان میں رہنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنانے سے پورے ہوتے ہیں۔

آخر میں، اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے دل گہرائیوں سے سوگوار ہے اور ان کے لواحقین کے صبر کی دعا ہے۔ یہ ایک قومی المیہ ہے جس نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے۔ دعا ہے کہ جو لوگ اب بھی لاپتہ ہیں وہ بخیریت اپنے گھروں کو لوٹیں اور اللہ تعالیٰ متاثرہ تاجروں کو اس عظیم مالی نقصان کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے۔ ہمیں بحیثیت قوم اس واقعے سے سبق سیکھنا ہوگا اور یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے شہروں کو صرف پتھروں کا ڈھیر نہیں بلکہ محفوظ پناہ گاہیں بنائیں گے جہاں کسی کی زندگی اس طرح بے بسی سے راکھ نہ ہو۔


Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !