غزل
شاعر: ڈاکٹر شوذب کاظمی
روح ، درویشی میں پوشیدہ ہے دارائی کی
ناتوانی میں ہے جاں تاب و توانائی کی
شکر ہے ، سر پہ ہے چھت ، گنبدِ مینائی کی
دل کی دھڑکن میں تب و تاب ہے رعنائی کی
کب تمنائیں ، ہوئیں پوری تمنائی کی
کبھی دُکھ کی ملی منزل کبھی تنہائی کی
میں نے پھولوں میں بسا اُس کا سراپا دیکھا
" اُس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی "
تو جو آرائشِ کاکل کو رکا چلمن میں
داستاں عام ہوئی تیری خود آرائی کی
اور کچھ بن نہیں پایا تو قبیلے والے
مجھ پہ شمشیر چلانے لگے رسوائی کی
جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ، پرانا ہے یہ قول
اے مرے دوست ، عمارت نہ بنا رائی کی
تیز رَو ہے یہ زمانہ ، ذرا تھم تھم کے چلو
دیکھو گہرائی میں گرنا نہ کسی کھائی کی
جانِ شوذب ، تری دہلیز تک آتے آتے
جابجا اس ترے شیدا نے جبیں سائی کی
.jpg)
