سوانح حیات: حضرت مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی (رحمۃ اللہ علیہ)

 

سوانح حیات: حضرت مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی (رحمۃ اللہ علیہ)

Biography: Hazrat Makhdoom Muhammad Hashim Thattvi (may Allah have mercy on him)

تحریر: محمد شاہ رخ فیروز قادری

خاندانی پس منظر اور ولادت

سندھ کی سرزمین صدیوں سے علم و عرفان کا مرکز رہی ہے۔ اسی علمی کہکشاں کا ایک درخشندہ ستارہ حضرت مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی ہیں۔ آپ کی ولادت 19 نومبر 1692ء (10 ربیع الاول 1104ھ) کو ضلع ٹھٹھہ کے گاؤں "بٹھوری" میں ہوئی۔ آپ کا تعلق قبیلہ "پنور" سے تھا اور آپ کا نسبی تعلق بنو ہاشم (حضرت حارث بن عبدالمطلب) سے ملتا ہے۔ آپ کے بزرگ اشاعتِ اسلام کی خاطر فاتحِ سندھ محمد بن قاسم کے دور میں اس خطے میں تشریف لائے تھے۔

تعلیمی سفر اور اساتذہ

آپ نے علم کی ابتدائی منزلیں اپنے والد محترم مخدوم عبدالغفور کے زیرِ سایہ طے کیں۔ مزید پیاس بجھانے کے لیے آپ اس وقت کے علمی مرکز ٹھٹھہ شہر پہنچے، جسے علم و ہنر کی فراوانی کی وجہ سے "ثانی بغداد" کہا جاتا تھا۔ وہاں آپ نے مخدوم محمد سعید اور مخدوم ضیاء الدین ٹھٹوی جیسے نابغہ روزگار اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔

31 سال کی عمر میں آپ نے حرمین شریفین کا سفر کیا، جہاں حج کی سعادت کے ساتھ ساتھ مکہ اور مدینہ کے جید محدثین سے حدیث، فقہ اور تفسیر کی اعلیٰ سندیں حاصل کیں، جس نے آپ کے علمی وقار کو چار چاند لگا دیے۔

روحانی تربیت اور بیعت

علمِ ظاہر کے ساتھ ساتھ آپ نے علمِ باطن (تصوف) کی طرف بھی توجہ دی۔ مخدوم ابوالقاسم نقشبندی کی رہنمائی میں آپ نے سلسلہ قادریہ کے بزرگ حضرت سید سعد اللہ سلونی کے ہاتھ پر بیعت کی اور مختصر عرصے میں ہی خلافت و اجازت سے نوازے گئے۔

علمی و تدریسی خدمات

ٹھٹھہ واپسی پر آپ نے "دارالعلوم ہاشمیہ" کی بنیاد رکھی، جو جلد ہی پورے خطے میں علم کا گہوارہ بن گیا۔ آپ ایک کثیر التصانیف ادیب تھے؛ آپ کی قلمی کاوشوں کی تعداد 150 سے 300 کے درمیان بتائی جاتی ہے، جو عربی، فارسی اور سندھی زبانوں میں فقہ، حدیث، سیرت اور قواعدِ زبان جیسے موضوعات پر محیط ہیں۔

اصلاحِ معاشرہ اور عدالتی منصب

مخدوم صاحب محض ایک مدرس نہیں بلکہ ایک مصلحِ قوم بھی تھے۔ آپ نے معاشرے میں پھیلی ہوئی بدعات، غیر شرعی رسومات اور اخلاقی برائیوں کے خلاف مؤثر آواز اٹھائی۔ آپ کے علمی رعب اور تقویٰ کی وجہ سے حاکمِ سندھ غلام شاہ کلہوڑو آپ کا بے حد احترام کرتا تھا۔ آپ کو ٹھٹھہ کا "قاضی القضاۃ" (چیف جسٹس) مقرر کیا گیا، جہاں آپ نے اسلامی قوانین کے نفاذ اور انصاف کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

وصال

آپ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت میں صرف کی اور بالآخر 6 رجب 1174ھ (9 فروری 1761ء) کو 70 سال کی عمر میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ آپ کا مزار مبارک ٹھٹھہ کے تاریخی قبرستان مکلی میں واقع ہے، جہاں آج بھی عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔



Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !