ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج چھٹے روز میں داخل، ہلاکتیں آٹھ تک پہنچ گئیں
ایران میں بڑھتی مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف شروع ہونے والے عوامی مظاہرے آج چھٹے روز بھی جاری ہیں۔ ایک ہفتے سے جاری اس احتجاجی سلسلے کے دوران اب تک آٹھ مظاہرین ہلاک جبکہ متعدد افراد کی گرفتاری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق، ایران کی لیبر نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ صوبہ لرستان کے شہروں ازنا اور ڈیلفان میں سیکیورٹی فورسز نے کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے۔
لیبر نیوز ایجنسی کے مطابق صوبہ لرستان کے چیف جسٹس سعید شہواری نے متعلقہ عدالتی اور استغاثہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ مبینہ طور پر فسادات پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں۔
ایران میں یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب ایرانی کرنسی کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں تیزی سے گرنے لگی، جس کے باعث مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ عوامی غصہ ابتدا میں تہران میں سامنے آیا جہاں دکانداروں نے احتجاج کیا، بعد ازاں یونیورسٹی کے طلبہ بھی مظاہروں میں شامل ہو گئے اور یہ احتجاج دیگر شہروں تک پھیل گیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مظاہرین کی حمایت اور مداخلت کے بیانات کے باوجود حکومت مظاہروں پر دباؤ برقرار رکھے گی۔ ایران کی قومی سلامتی کمان کے ترجمان سعید منتظر المہدی نے کہا ہے کہ پولیس شہری احتجاج کو بدامنی اور افراتفری میں تبدیل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔
دوسری جانب لرستان کے ایک مقامی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ غیر قانونی مظاہروں سے پوری قوت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں صوبہ کوہدشت میں پاسدارانِ انقلاب کا ایک اہلکار ہلاک ہوا جبکہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے نتیجے میں 13 پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تہران اور اصفہان سمیت کئی شہروں میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت مخالف نعرے لگائے، جبکہ اصفہان میں سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کے بینرز نذرِ آتش کیے گئے۔ تاہم بی بی سی نے ان ویڈیوز کے وقت اور مقام کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔
واضح رہے کہ یہ مظاہرے 2022 میں مہسا امینی کی حراست میں موت کے بعد ہونے والی ملک گیر احتجاجی تحریک کے بعد ایران میں سب سے بڑے مظاہروں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
.jpg)