لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے ڈپٹی سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو چاہیے کہ وہ ماضی کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر حزب اللہ کے ساتھ نئے باب کا آغاز کرے اور ایسے مذاکرات کو فروغ دے جو خطے کے مفادات کو محفوظ بنائیں۔
ترکی کی اناطولو ایجنسی کے مطابق ٹی وی خطاب میں نعیم قاسم نے مذاکرات کے لیے تین بنیادی اصول پیش کیے:
-
تنازعات اور خدشات کا حل۔
-
اسرائیل کو مشترکہ دشمن تسلیم کرنا۔
-
ماضی کے اختلافات کو منجمد کر کے اسرائیل کے خلاف متحد ہونا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خطہ ایک "خطرناک موڑ" پر ہے اور دوحہ میں حماس کی قیادت پر اسرائیلی حملے نے صورتحال بدل دی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کے اہداف فلسطین، لبنان، اردن، مصر، شام، عراق، سعودی عرب، یمن اور ایران تک پھیلے ہوئے ہیں۔
نعیم قاسم نے زور دیا کہ حزب اللہ کے ہتھیار سعودی عرب یا کسی اور عرب ملک کے خلاف نہیں بلکہ صرف اسرائیل کے خلاف ہیں۔ انہوں نے لبنانی جماعتوں اور مخالفین پر زور دیا کہ اسرائیلی مفادات کی خدمت سے گریز کریں اور پارلیمان و حکومت میں اتحاد پیدا کریں تاکہ قابض افواج کا مقابلہ کیا جا سکے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے بروقت انتخابات، مالی و معاشی اصلاحات، بدعنوانی کے خاتمے اور قومی سلامتی کی حکمت عملی پر اتفاق کو ناگزیر قرار دیا۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ حزب اللہ اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی اور لبنانی فوج کے ساتھ مشترکہ کارروائی کے لیے تیار ہے۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا کے ایلچی ٹام بریک نے جون میں ایک تجویز پیش کی تھی کہ لبنان میں تمام غیر ریاستی گروپوں کو غیر مسلح کیا جائے، بدلے میں اسرائیل مقبوضہ سرحدی علاقوں سے انخلا اور تعمیر نو کے لیے فنڈز فراہم کرے۔
اگرچہ لبنانی کابینہ نے اگست میں ایک منصوبہ منظور کیا ہے جس کے تحت 2025 کے اختتام تک تمام ہتھیار ریاستی کنٹرول میں لائے جائیں گے، لیکن حزب اللہ مسلسل کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار اس وقت تک نہیں چھوڑے گا جب تک اسرائیل جارحیت روک نہیں دیتا، مقبوضہ علاقے خالی نہیں کرتا اور قیدیوں کو رہا نہیں کرتا۔
.jpg)
