دریائے چناب کا بپھرا ہوا ریلا جھنگ پہنچ گیا ہے جہاں 200 سے زائد دیہات پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ شدید طغیانی کے باعث سیکڑوں گھروں میں پانی داخل ہو گیا جبکہ کھڑی فصلوں کے وسیع رقبے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ 12 گھنٹوں کے دوران تریموں ہیڈ ورکس پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، جہاں آٹھ سے نو لاکھ کیوسک پانی گزرنے کا امکان ہے۔
کل ملا کر دریائے چناب کی طغیانی سے 411 دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ آج رات یہ ریلا ملتان سے گزرے گا اور ہیڈ محمد والا روڈ پر حفاظتی شگاف ڈالنے کے لیے ڈائنامائٹ نصب کر دیا گیا ہے۔ جھنگ کی تحصیلیں 18 ہزاری، شورکوٹ اور احمد پور سیال کے متعدد دیہات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق سدھنائی کے قریب مائی صفوراں بند توڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے 14 موضع جات متاثر ہوں گے اور تقریباً 17 ہزار ایکڑ زمین زیرِ آب آ جائے گی۔ بند ٹوٹنے سے ملتان کے 16 موضع جات بھی متاثر ہوں گے جبکہ پانی 36 گھنٹوں کے بعد راجن پور تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
سیلابی ریلے سے سیالکوٹ، وزیرآباد اور چنیوٹ کی صورتحال بھی سنگین ہو گئی ہے، جبکہ بھوانہ تحصیل بری طرح متاثر ہوئی ہے جہاں بستیاں، فصلیں اور مال مویشی تباہ ہو چکے ہیں۔ امدادی کارروائیوں کے لیے ڈرونز اور کشتیاں استعمال کی جا رہی ہیں۔ شجاع آباد میں 140 دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں اور ہیڈ پنجند پر بھی پانی کی آمد تیزی سے بڑھ رہی ہے، جہاں 2 سے 3 ستمبر کے دوران 10 لاکھ کیوسک پانی گزرنے کا امکان ہے۔ مظفرگڑھ میں بھی پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہو رہا ہے جس سے سینکڑوں ایکڑ زمین متاثر ہوئی ہے۔
ادھر بھارت نے بھی پاکستان کو ایک بار پھر سفارتی سطح پر ممکنہ سیلاب سے آگاہ کیا ہے۔ وزارتِ آبی وسائل نے تصدیق کی ہے کہ دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کے باعث فیروزپور ہریک کے مقام پر سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ وزارت نے ہنگامی اقدامات کے لیے 28 اہم اداروں کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔
.jpg)
