غزل: جب بھی چپ ہوتا ہے کوٸی دیکھ کے رونے لگ جاتے ہیں

غزل

شاعر: شہباز ناصر

 جب بھی چپ ہوتا ہے کوٸی دیکھ کے رونے لگ جاتے ہیں
وہ جس کا ہو جاتا ہے سب اس کے ہونے لگ جاتے ہیں

پہلی سیٹ پہ ہوتے ہیں سب اس کے چاہنے والے اور ہم
خاک نشیں ہیں خاک پہ بیٹھے بیٹھے کونے لگ جاتے ہیں

رات کو تارے گنتے گنتے اپنی رات گزر جاتی ہے
سارے جب اٹھ جاتے ہیں تو پھر ہم سونے لگ جاتے ہیں

کوٸی پوچھے کیا کرتے ہو اس کو اتنا کہتے ہیں بس
شعر مکمل ہو جاٸے تو غزلیں بونے لگ جاتے ہیں

سب سے ہنس کے ملتے ہیں اور تنہاٸی میں روتے ہیں 
ناصر جب کوٸی دیکھ لے روتا منہ کو دھونے لگ جاتے ہیں



Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !