کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے جلسے کے بعد ہونے والے دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 13 ہوگئی ہے جبکہ 31 افراد زخمی ہیں۔ زخمیوں کو سول اسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔
زخمی نور احمد نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وہ جلسہ ختم ہونے کے بعد ایک سفید گاڑی کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے کہ اچانک زوردار دھماکہ ہوا جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے سامنے آٹھ افراد کو زمین پر گرا ہوا دیکھا۔
اسی طرح زخمی ہونے والے ایک اور نوجوان زمان بلوچ نے بتایا کہ وہ جلسہ گاہ سے کچھ فاصلے پر اپنے دوست کا انتظار کر رہے تھے اور فون پر بات کر رہے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا۔ ان کے مطابق، ان کا پیر شعلے اور چھروں سے زخمی ہوا جبکہ دھماکے کے فوراً بعد ہر طرف افراتفری اور چیخ و پکار مچ گئی۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکہ نواب نیاز زہری کی گاڑی کے قریب ہوا، اور ہلاک ہونے والوں میں ان کے بعض ذاتی محافظ بھی شامل ہیں۔
.jpg)
