تحریر: عامر سہیل
ہم خود کو خارج سے جاذبِ نظر بنانے کے لئے طرح طرح کے جتن کرتے ہیں اور ہر ممکن سعی کرتے ہیں کہ لوگ ہماری ظاہری نمود و نمائش کو پسند کریں اور اس پر داد و تحسین بجا لائیں۔ اس کے لئے سینکڑوں مصنوعی طریقے بھی اپنائے جاتے ہیں اور پرہیز وغیرہ کا بھی خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ مگر ہم اپنے خیال اور فکر کو سجانے کی طرف قطعاً توجہ نہیں دیتے، حالانکہ یہی وہ چیز ہے جس سے ہماری شخصیت کی نشونما اور بڑھوتری ہوتی ہے۔ عمدگیِ خیال کی بدولت ہم بشریت کے قلوب میں ہمیشگاں کے لئے زندہ رہتے ہیں اور یقین جانیے، حقیقی زیست یہی ہے کہ کوئی آپ کو آپ کے خیالات اور بلند پایہ سوچ کی وجہ سے یاد رکھے اور آپ سے ملاقات کا مشتاق و متمنی رہے۔
دنیا میں جتنی بھی ترقی ہوئی ہے اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی سوچ اور خیال کارفرما ہوتا ہے۔ زندگی کو اچھا بنانے کے لئے بھی یہی خیال ایک محرک ودیت کرتا ہے جو بعد میں کامیابی کا ضامن بنتا ہے۔ آگے بڑھنے کے لئے خیال کی نمود ضروری ہے۔ انسان کے وجدان میں یہ خیال پنپتا ہے کہ اسے ترقی کرنی ہے اور زندگانی کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے۔ اس کے لئے تن دہی سے محنتِ شاقہ درکار ہے۔ اگر اس کا خیال اور سوچ زنگ آلود ہو جائیں تو بشر ہاتھ پاؤں توڑ کر پڑا رہتا ہے اور آگے بڑھنے کی سوچ کو خیرباد کہہ دیتا ہے۔ اچھا خیال بیڑا پار لگا دیتا ہے اور خیال کی پژمردگی لُٹیا ڈبو دیتی ہے۔
حیات جینے کے لئے عمدہ خیال کو اوج بخشنا پڑتا ہے۔ خیالات میں رہ جانے والا ذرا سا قلق اور سقم بھی حیات کو مُردنی ودیت کر دیتا ہے۔ زندگی میں ترقی اور کامرانی کے لئے ایک اچھی سوچ اور خیال اپنا کر مستقل مزاجی سے اس پر کاربند رہا جائے تو بہت آگے بڑھا جا سکتا ہے اور حیات کو ایک کامیاب اور مثالی زندگی بنایا جا سکتا ہے۔
آج کے اس جدید اور روشن خیال دور میں حیات جینے، خلقت کے قلوب میں زندہ رہنے اور دوسروں سے سبقت لے جانے کے لئے خیال کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ خیال کی عمدگی زیست کو ایسی ضیا بخشتی ہے جو انسان کے تشخص کو ہمیشگی کے لئے تابندہ رکھتی ہے۔ یعنی حیات میں نمود اور ترقی، خیال کی نمو اور فراوانی سے منسلک ہے۔ ورنہ انسان سانس تو لے رہا ہوتا ہے مگر حقیقتاً مردہ ہوتا ہے، کیونکہ اس کے اندرون سے وہ تفکر اور تصور ختم ہو چکا ہوتا ہے جو آگے بڑھنے کے لئے امرِ لازم ہے۔
پہلے ایک عمدہ خیال کو ذہن میں لائیے، پھر اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایمانداری اور انہماک سے جُٹ جائیے۔ پھر دیکھیے کہ جیون میں معتمد حلقہ احباب میں اضافہ ہوگا اور آپ ہمیشہ کے لئے امر ہو جائیں گے۔ زندگی کو زندگی بنانے کے لئے خیالات کی نت نئی نمو سے وابستگی بہت ضروری ہے۔ ایک بھرپور حیات گزارنے کے لئے صدقِ دل، خلوصِ نیت اور خیال میں متانت بھی ضروری ہے۔
بہت سے لوگ اپنی زندگی میں کامیابی اور ناموری کے خواب آنکھوں میں سجا کر شارٹ کٹ کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور عمدگیِ خیال کو اہمیت نہیں دیتے۔ نتیجتاً انہیں گمنامی تو ضرور ملتی ہے مگر کامیابی اور شہرت ہم پلہ ہونا نصیب نہیں ہوتا۔ حیات کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرنے کے لئے محنت اور خیال کی نمو کی آمیزش درکار ہے۔ حیات کے لئے نمودِ خیال واقعی ایک نہایت ضروری امر ہے۔
عمدہ خیال ایک ایسا رہبر ہے جو کبھی گردِ راہ بھٹکنے نہیں دیتا۔ جویائے منزل ہمیشہ ایک خاص خیال کو اپنی زندگی میں جگہ دیتے ہیں اور پھر منزل مقصود کی راہ پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ نت نئے خیالات کا دماغ میں پنپنا ہی چشمۂ حیات ہے جو ایک جاودانی پہچان ودیت کرتا ہے۔ لوگ برسوں ہمارے نام اور ہماری گزری زندگانی پر عش عش کرتے رہتے ہیں۔
اس کے لئے بھیڑ سے ہٹ کر چلنا پڑتا ہے، یعنی تخلیہ ضروری ہے۔ ان سارے مضمرات کو دیکھیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ حیات کو حیات بنانے کے لئے خیال کی نمو بہت ضروری ہے۔ اگر ہم تاریخ کی بڑی بڑی شخصیات کے حالاتِ زندگی پڑھیں تو یہ اوراق ہمیں باور کرائیں گے کہ ان عظیم لوگوں نے ہمیشہ اپنی فکر، سوچ اور خیال کو بلند رکھا اور منزل کے حصول تک انہی خیالات کے مرہونِ منت رہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے کارنامہ ہائے زندگی سے تاریخ میں ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے اور مرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں ان کے خیالات کی بدولت محبت اور الفت کو جلا ملی۔
عمدہ خیال ہی نے انہیں کامیابی کی اس نہج تک رسائی دلائی۔ جن لوگوں کے خیالات میں ماندگی نے جگہ بنائی وہ گمنام ہو گئے۔ عمدہ خیال ہی تو حیات میں کامیابی کی جنم بھومی ہے اور تگ و دو کو آگے بڑھانے کا محرک ہے۔ اسی سے زیست کو بقائے دوام حاصل ہے اور دنیا کے تمام مفکرین نے اسی حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ اپنے خیالات کو ہمیشہ بلند رکھو اور ہمت کو خیرباد نہ کہو، بس پھر کامیابی ہی کامیابی ہے۔
.jpg)
.png)