غزل:ہمیں کیا ہے کہ ہم بولیں

غزل

شاعر: منیب احمد عاصی

ہمیں کیا ہے کہ ہم بولیں
ہمیں دنیا سے کیا لینا
وفا ہے اسم اعظم پر
مگر مطلب جفا لینا
تیری آنکھیں بتاتی ہیں
تیرے اندر کی سب باتیں
تیری خواہش سمجھتا ہوں
جو کہتا ہے بھلا دینا
میرا تو یہ سہارہ ہے
جو ہے بدنام تنہائی
نہ ہونا تم کبھی تنہا
اگر ہونا صدا دینا
کبھی اک پل میری خاطر
ستاروں میں کہیں تکنا
تمہیں گر یاد آؤں میں
مجھے جاناں دعا دینا



Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !