جمہوریت کی نرسری بند کیوں؟ طلباء یونین کی بحالی کا تقاضا

 جمہوریت کی نرسری بند کیوں؟ طلباء یونین کی بحالی کا تقاضا


Restore Student Unions by Kashif Baloch

تحریر: کاشف بلوچ

نو فروری 1984 کو سابق فوجی صدر جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں طلباء یونین پر پابندی عائد کی گئی۔ آج اس فیصلے کو بیالیس برس مکمل ہو چکے ہیں۔ ہر سال فروری کا مہینہ آتا ہے تو یہ تاریخ محض ایک یاد دہانی نہیں ہوتی، بلکہ ایک سوال بن کر سامنے کھڑی ہو جاتی ہے: کیا اس ملک کے طلباء کو کبھی ان کا آئینی اور جمہوری حق واپس ملے گا؟


چار دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود تعلیمی اداروں کے مسائل کم نہیں ہوئے۔ فیسوں میں بے جا اضافہ، سہولیات کی غیر منصفانہ تقسیم، ہاسٹلز اور ٹرانسپورٹ کی کمی، لیبارٹریز اور لائبریریز کی ناکافی حالت، نصاب کی فرسودگی اور روزگار سے عدم مطابقت—یہ سب وہ مسائل ہیں جن کا سامنا پاکستان بھر کے طلباء کر رہے ہیں۔ پنجاب، جہاں سب سے زیادہ جامعات اور کالجز قائم ہیں، وہاں یہ تضاد اور بھی واضح نظر آتا ہے۔ لاہور اور چند بڑے شہروں کے اداروں کو نسبتاً بہتر وسائل حاصل ہیں، مگر جنوبی پنجاب کے تعلیمی مراکز بنیادی سہولیات کے لیے بھی جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔


ایک اور تشویشناک پہلو نوجوانوں کی فکری اور عملی تربیت کا فقدان ہے۔ آج بہت سے طلباء اچھے نمبروں سے ڈگری حاصل کر لیتے ہیں، مگر جب علمی مکالمے، دلیل، تنقیدی سوچ یا کسی فورم پر اپنے مضمون کے دفاع کی بات آتی ہے تو کمزوری نمایاں ہو جاتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں مکالمے اور قیادت کی عملی تربیت کے مواقع محدود کر دیے گئے ہیں۔ جب نوجوانوں کو منظم انداز میں اپنی بات رکھنے، اختلافِ رائے کو برداشت کرنے اور اجتماعی مسائل پر گفتگو کرنے کا پلیٹ فارم نہیں ملے گا تو ان کی شخصیت محض امتحان پاس کرنے تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔


یہ تضاد بھی غور طلب ہے کہ اس معاشرے میں تقریباً ہر طبقے کو تنظیم سازی اور یونین بنانے کا حق حاصل ہے۔ ایک خاکروب سے لے کر رکشہ ڈرائیور تک، کلرک، مزدور، ڈاکٹر اور دیگر سرکاری و نجی شعبوں کے ملازمین—سب کی یونینز موجود ہیں، ان کے انتخابات ہوتے ہیں، وہ اپنے حقوق کے لیے اجتماعی آواز اٹھاتے ہیں۔ خود جامعات کے اندر تدریسی و غیر تدریسی عملے کی یونینز سرگرم عمل ہیں اور باقاعدہ الیکشن بھی منعقد ہوتے ہیں۔ مگر جب بات طلباء کی آتی ہے تو انہی اداروں میں اتحاد اور نمائندگی پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہر طبقہ منظم ہو کر اپنے حقوق کی بات کر سکتا ہے تو طلباء کو اس حق سے کیوں محروم رکھا گیا ہے؟


اس پابندی کا نتیجہ صرف یہ نہیں کہ طلباء کی آواز کمزور ہوئی، بلکہ اس نے قیادت کے قدرتی عمل کو بھی متاثر کیا۔ جب نچلی سطح سے نوجوانوں کو آگے آنے، انتخاب لڑنے، تنظیم سازی سیکھنے اور جمہوری طریقے سے مسائل حل کرنے کا موقع نہیں ملے گا تو قیادت مخصوص حلقوں تک محدود ہو جائے گی۔ یوں معاشرے میں وہی چند بااثر خاندان اور گروہ نمایاں رہیں گے، جبکہ عام پس منظر سے تعلق رکھنے والا باصلاحیت نوجوان آگے آنے سے محروم رہے گا۔


پنجاب کے تناظر میں طلباء یونین کی بحالی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ اگر ان اداروں میں ضابطہ اخلاق کے تحت، غیر مسلح اور شفاف انتخابات کے ذریعے طلباء نمائندگی بحال کی جائے تو یہ نہ صرف تعلیمی مسائل کے حل میں مددگار ہو سکتی ہے بلکہ نوجوانوں کو عملی جمہوری تربیت بھی فراہم کر سکتی ہے۔ ایک فعال یونین فیسوں کے تعین میں شفافیت، سہولیات کی بہتری اور تعلیمی معیار کے فروغ کے لیے انتظامیہ سے باقاعدہ مکالمہ کر سکتی ہے۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ طلباء یونین کی بحالی کو ماضی کی تلخیوں کے بجائے مستقبل کی ضرورت کے طور پر دیکھا جائے۔ واضح ضابطہ اخلاق، سیاسی و مسلح مداخلت کی روک تھام، مالی شفافیت اور ادارہ جاتی نگرانی کے ذریعے ایک متوازن نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نصاب میں عملی مہارتوں، تحقیق، مباحثے اور قیادت سازی کو فروغ دیا جائے تاکہ ڈگری محض کاغذ کا ٹکڑا نہ رہے بلکہ علم، شعور اور اعتماد کی علامت بنے۔


فروری ہر سال امید لے کر آتا ہے۔ امید اس بات کی کہ نوجوانوں پر اعتماد کیا جائے گا، انہیں ذمہ داری دی جائے گی اور ان کی آواز کو دبانے کے بجائے سننے کی روایت کو فروغ دیا جائے گا۔ ایک مضبوط، باشعور اور منظم طلباء نمائندگی نہ صرف تعلیمی اداروں کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ ملک میں ایسی قیادت کو جنم دے سکتی ہے جو نچلی سطح سے ابھر کر قومی سطح تک پہنچے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے تعلیم محض ڈگری نہیں بلکہ تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

مزید تحریریں: مزید تحریریں: Kashif Baloch
Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !