محمد سرفراز قادری
گل پلازہ کا وہ شہید جس نے آخری لمحے تک دوسروں کا سوچا
تحریر: محمد شاہ رخ فیروز قادری
انسانیت کی خدمت اور ایثار و قربانی کی تاریخ ایسے گمنام سپاہیوں سے بھری پڑی ہے جو وقت آنے پر اپنی جان دے کر دوسروں کی زندگی بچا لیتے ہیں۔ شہید محمد سرفراز قادری ایک ایسی ہی قد آور شخصیت تھے جو اپنی ذات میں ایک مکمل انجمن اور انسانیت کے لیے محبت کا استعارہ تھے۔ وہ سوشل میڈیا پر بھی بہت فعال تھے اور ہمیشہ مثبت انداز میں مذہبی مواد شیئر کیا کرتے تھے۔
سرفراز بھائی سے میری پہلی باقاعدہ ملاقات رواں سال جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے پُرمسرت موقع پر ہوئی۔ جماعتِ اہلسنت کراچی (ضلع جنوبی) کے تحت میلاد النبی ﷺ کی تیاریوں کے سلسلے میں جب تنظیماتِ اہلسنت کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، تو وہاں بزمِ غوثیہ کے صدر کی حیثیت سے سرفراز قادری بھی شریک تھے۔
ان سے مل کر ایسا لگا ہی نہیں کہ یہ پہلی ملاقات ہے؛ ان کی شخصیت میں ایسی اپنائیت تھی کہ لگا جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔ انہوں نے اجلاس میں میلاد کے حوالے سے نہایت جاندار تجاویز پیش کیں۔ جب اجلاس کے اختتام پر میں نے ان کا نمبر محفوظ کرنا چاہا تو یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ ان کا نمبر میرے موبائل میں پہلے سے موجود تھا، جس سے اندازہ ہوا کہ ماضی میں بھی کسی مذہبی یا سماجی کام کے سلسلے میں ہماری فون پر گفتگو ہو چکی تھی۔
اس اجلاس کے بعد جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تیاریوں کے حوالے سے صدر ٹاؤن کی ٹاؤن کونسل کے اجلاس میں محمد سرفراز قادری ہمارے ساتھ جماعت اہلسنت کے وفد میں شامل رہے۔
خدمتِ خلق کا بچپن سے جذبہ
وہ بچپن ہی سے خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار تھے۔ ان کا دل مسلکِ اہلسنت اور انسانیت کے درد سے تڑپتا رہتا تھا۔ وہ بلا تفریقِ رنگ و نسل سب کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ وہ جامع مسجد غوثیہ کے متحرک ممبر اور بزمِ غوثیہ کے صدر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نہایت اخلاص سے نبھا رہے تھے۔ انہوں نے مسلکِ اہلسنت کی ترویج اور اشاعت کے لیے گراں قدر کام کیا۔ اس کے علاوہ وہ سندھی ہالائی جماعت کے ایک مخلص کارکن اور سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے۔
سانحہ گل پلازہ اور آخری پیغام
جب گل پلازہ میں ہولناک آگ لگی، تو سرفراز قادری نے واٹس ایپ پر اپنے دوستوں کو ایک آخری پیغام (وائس نوٹ) بھیجا، جو سن کر آج بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ انہوں نے کہا:
"میں چاروں طرف سے پھنس چکا ہوں، بہت خطرناک آگ لگی ہوئی ہے، میرا باہر نکلنا مشکل ہوگیا ہے، مجھ سے کوئی غلطی کوتاہی ہوگئی ہو تو معاف کردینا۔"
ایثار کی بے مثال داستان
عینی شاہدین کے مطابق، سرفراز قادری آگ لگنے کے بعد دو مرتبہ بحفاظت عمارت سے باہر نکل آئے تھے، لیکن اندر پھنسے ہوئے بے بس لوگوں کی پکار نے انہیں سکون سے نہ بیٹھنے دیا۔ وہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر بار بار شعلوں میں کودے اور متعدد لوگوں کو بحفاظت باہر نکال کر ان کی زندگیاں بچائیں۔ اسی جدوجہد میں دوسروں کو زندگی بانٹتے ہوئے انہوں نے جامِ شہادت نوش کر لیا۔
جنازہ اور خراجِ عقیدت
ان کی نمازِ جنازہ ایک تاریخی اجتماع ثابت ہوئی، جس کی امامت دعوتِ اسلامی کے رکنِ شوریٰ حاجی عبدالحبیب عطاری نے کی۔ اس موقع پر جماعتِ اہلسنت کراچی کے ناظمِ اعلیٰ سید رفیق شاہ، تحریک لبیک پاکستان کے علامہ سلطان مدنی، ایم کیو ایم کے ارشد وہرہ اور دلاور، اور پیپلز پارٹی کے جاوید ناگوری سمیت مختلف سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے شرکت کر کے شہید کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
سرفراز قادری شہید کی رحلت سے جہاں ان کے عزیز و اقارب سوگوار ہیں، وہیں پوری قوم ان کے اس عظیم انسانی جذبے کو سلام پیش کرتی ہے۔ اللہ پاک ان کی اور سانحہ گل پلازہ کے تمام شہداء کی بے حساب مغفرت فرمائے۔ آمین۔
.jpg)
.jpg)