گل پلازہ کی آگ: جب شعلوں نے عمارت نہیں، ریاست کی غفلت کو بے نقاب کر دیا

 گل پلازہ کی آگ: جب شعلوں نے عمارت نہیں، ریاست کی غفلت کو بے نقاب کر دیا

gul plazah ki aag: jab shalon ne amart nihen, ryast ki ghfilt ko be naqab kar diya.

تحریر : سید شعیب بخاری
کراچی ایک بار پھر جل اٹھا، مگر اس بار آگ نے صرف ایک عمارت کو نہیں، بلکہ اس پورے شہری نظام کو بے نقاب کر دیا جس کے سہارے لاکھوں لوگ اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ گل پلازہ میں پیش آنے والا آتشزدگی کا سانحہ بظاہر ایک حادثہ دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ برسوں سے جمع ہوتی ہوئی غفلت، ناقص نگرانی اور ادارہ جاتی بے حسی کا منطقی نتیجہ ہے۔ اس واقعے میں متعدد قیمتی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے جبکہ کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کے اہلِ خانہ امید اور خوف کے درمیان معلق ہیں۔ یہ سانحہ محض اعداد و شمار کا معاملہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی انسانی المیہ ہے۔
جب کسی شہر میں کمرشل عمارتیں انسانی تحفظ کے بنیادی تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کھڑی کی جائیں، جب آگ سے بچاؤ کے انتظامات کاغذوں تک محدود ہوں، اور جب معائنہ محض رسمی کارروائی بن جائے تو پھر آگ لگنا حیران کن نہیں رہتا، حیران کن صرف یہ ہوتا ہے کہ نقصان اتنا زیادہ کیوں ہوا۔ گل پلازہ میں بھی یہی ہوا۔ آگ لگی، مگر اس سے زیادہ تباہ کن وہ خاموشیاں ثابت ہوئیں جو الارم بن کر نہ بج سکیں، وہ راستے جو ایمرجنسی میں بند نکلے، اور وہ نظام جو حرکت میں آنے سے پہلے ہی ناکام ہو چکا تھا۔
اس سانحے نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ ہمارے شہروں میں انسانی جان کی حیثیت کیا ہے۔ کیا عمارت کی منظوری کے وقت واقعی یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہاں سینکڑوں انسان محفوظ رہ سکیں گے، یا پھر صرف نقشے، فیسیں اور دستخط ہی کافی سمجھے جاتے ہیں؟ گل پلازہ جیسے تجارتی مرکز میں روزانہ درجنوں دکان دار، ملازمین اور خریدار موجود ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود اگر حفاظتی انتظامات ناکافی ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں ریاستی نگرانی کا پورا ڈھانچہ کمزور ہے۔
سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا پہلو وہ افراد ہیں جو تاحال لاپتہ ہیں۔ یہ لوگ کسی فہرست کے محض نمبرز نہیں بلکہ کسی کے گھر کا سہارا، کسی ماں کی دعا اور کسی بچے کی امید ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ کے لیے یہ سانحہ ختم نہیں ہوا، کیونکہ جب تک یقین نہ ہو، دکھ کا عمل مکمل نہیں ہوتا۔ اسپتالوں، ریسکیو مراکز اور سرکاری دفاتر کے چکر لگاتے یہ لوگ دراصل اس ریاست سے سوال کر رہے ہیں جو ان کی حفاظت کی ذمہ دار تھی۔
کراچی کے لیے آگ کوئی نیا تجربہ نہیں۔ یہ شہر بارہا فیکٹریوں، پلازوں اور رہائشی عمارتوں میں آتشزدگی کے مناظر دیکھ چکا ہے۔ ہر بار ایک ہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ آگ بجھ جاتی ہے، لاشیں دفن ہو جاتی ہیں، بیانات آ جاتے ہیں، تحقیقات کے وعدے کر لیے جاتے ہیں، اور کچھ عرصے بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ مگر معمول پر آنا دراصل اگلے سانحے کی تیاری ہوتا ہے۔ یہی تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے اجتماعی طور پر سیکھنے سے انکار کر رکھا ہے۔
دنیا کے دیگر ممالک میں فائر سیفٹی کو محض ایک ضابطہ نہیں بلکہ شہری حق سمجھا جاتا ہے۔ وہاں عمارتیں صرف اس وقت قابلِ استعمال سمجھی جاتی ہیں جب وہ انسانی جان کے تحفظ کی ضمانت دیں۔ سالانہ معائنے، عملی مشقیں اور سخت قانونی کارروائیاں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ کوئی بھی غفلت مہلک ثابت نہ ہو۔ ہمارے ہاں بھی قوانین موجود ہیں، مگر ان قوانین کی حیثیت اکثر فائلوں سے آگے نہیں بڑھتی۔ مسئلہ قانون کی کمی نہیں، مسئلہ نیت اور عملدرآمد کی کمی ہے۔
یہ کہنا کہ وسائل نہیں، حقیقت سے فرار کے مترادف ہے۔ اگر ایک شہر شاپنگ مالز، کمرشل پلازے اور بلند و بالا عمارتیں بنا سکتا ہے تو وہ انسانوں کو بچانے کے بنیادی انتظامات بھی کر سکتا ہے۔ اصل مسئلہ ترجیحات کا ہے، جہاں تجارتی مفاد انسانی جان پر غالب آ جاتا ہے۔
اس سانحے میں میڈیا، ریاست اور معاشرے تینوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ محض وقتی شور پر اکتفا نہ کریں۔ میڈیا کا فرض ہے کہ وہ فالو اپ کرے، سوال زندہ رکھے اور تحقیقات کے نتائج عوام تک پہنچائے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفافیت دکھائے، ذمہ داروں کا تعین کرے اور متاثرین کو محض اعلانات نہیں بلکہ انصاف فراہم کرے۔ اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر سانحے کو تقدیر کا نام دے کر خاموش نہ ہو جائے۔
گل پلازہ کا واقعہ ہمارے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ یا تو ہم اسے ایک اور حادثہ کہہ کر بھلا دیں، یا پھر اسے ایک موڑ بنا کر اپنے شہری نظام کو درست کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں۔ اگر اس بار بھی ہم ناکام رہے تو یہ مان لینا چاہیے کہ آگ صرف عمارتوں کو نہیں جلاتی، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کو بھی آشکار کر دیتی ہے۔
یہ تحریر کسی ادارے یا فرد کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ اس امید کے ساتھ لکھی گئی ہے کہ شاید اس بار سوال زندہ رہیں، اور شاید اس بار جانیں بچانے کی کوئی سنجیدہ کوشش ہو سکے۔

Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !