خاندانی نظام کی تباہی ایلون مسک کے خدشات اور مغربی معاشرت
تحریر: محمد شاہ رخ فیروز قادری
یورپ کے موجودہ آبادیاتی بحران پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سفید فام نسل کی بقا کو درپیش خطرات کسی بیرونی سازش سے زیادہ ان کے اپنے طرز زندگی کا نتیجہ ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یورپی یونین کے اکثر ممالک میں شرح پیدائش 1.5 سے بھی نیچے گر چکی ہے، جبکہ آبادی کو برقرار رکھنے کے لیے یہ شرح کم از کم 2.1 ہونی چاہیے۔ یہ گراوٹ اچانک نہیں آئی بلکہ دہائیوں سے جاری اس مادہ پرستانہ سوچ کا ثمر ہے جس نے فرد کو خاندان پر ترجیح دی اور اولاد کو خوشی کے بجائے معاشی بوجھ سمجھنا شروع کر دیا۔ آج جرمنی، اٹلی اور یونان جیسے ممالک میں بوڑھوں کی تعداد نوجوانوں سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے، جس نے پورے معاشی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ورک فورس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مہاجرین کا سہارا لینا ان کی مجبوری بن گیا ہے۔
یورپ میں آبادی کی اس کمی کی ایک بڑی وجہ وہ نام نہاد صنفی آزادی اور ایل جی بی ٹی (LGBT)ایجنڈا ہے جس نے فطرت کے بنیادی اصولوں سے بغاوت کی ہے۔ جب معاشرے میں ہم جنس پرستی کو نہ صرف قانونی تحفظ دیا جائے بلکہ اسے ایک قابل فخر طرز زندگی کے طور پر پیش کیا جائے، تو اس کا براہ راست اثر افزائش نسل پر پڑتا ہے۔ فطرت کا قانون ہے کہ نسل انسانی صرف مرد اور عورت کے ملاپ سے آگے بڑھتی ہے، لیکن یورپ نے "میرا جسم میری مرضی" اور "صنفی غیر مستقل مزاجی کے چکر میں اس فطری اکائی کو ہی توڑ دیا ہے۔ آج وہاں کے اسکولوں میں بچوں کو خاندان بنانے کے بجائے اپنی جنس تبدیل کرنے کے خیالات دیے جا رہے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ جوانی تک پہنچتے پہنچتے نسل نو پیداوری صلاحیت اور رجحان دونوں سے محروم ہو رہی ہے۔
دوسری جانب، اگر ہم مہاجرین کی بڑھتی ہوئی آبادی کا جائزہ لیں، تو یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ان کے مضبوط خاندانی پس منظر کا نتیجہ ہے۔ شام، افغانستان اور دیگر ایشیائی ممالک سے آنے والے مہاجرین اپنے ساتھ صرف دکھ اور محرومیاں نہیں لاتے، بلکہ وہ وہ قدیم خاندانی اقدار بھی لاتے ہیں جو یورپ کھو چکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، یورپ میں مقیم تارکین وطن کی شرح پیدائش مقامی آبادی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان معاشروں میں بچہ ایک نعمت سمجھا جاتا ہے اور خاندان کا تصور ایک فرد کے گرد نہیں بلکہ پوری اکائی کے گرد گھومتا ہے۔ "یہی سبب ہے کہ لندن، پیرس اور برلن جیسے عالمی شہروں کے ہسپتالوں میں گونجنے والی پہلی چیخ اب اکثریتی طور پر ان نوزائیدہ بچوں کی ہے جن کی جڑیں مقامی یورپی مٹی کے بجائے سمندر پار کے غیر ملکی پس منظر سے جڑی ہیں۔"
ایشیا کا خاندانی نظام اس وقت یورپ کے لیے ایک ایسی مثال ہے جسے وہ سمجھنے سے قاصر ہے لیکن اس کے اثرات سے انکار نہیں کر سکتا۔ جنوبی ایشیائی ممالک بالخصوص پاکستان اور انڈیا میں مشترکہ خاندانی نظام اور والدین اور بچوں کا قریبی تعلق آج بھی برقرار ہے۔ اس نظام میں سماجی تحفظ کی ذمہ داری ریاست کے بجائے خاندان اٹھاتا ہے، جس کی وجہ سے نفسیاتی سکون میسر ہوتا ہے اور افزائش نسل کا عمل معاشی خوف کا شکار نہیں ہوتا۔ یورپ نے ریاست کو ماں اور باپ کا متبادل بنانے کی کوشش کی، لیکن وہ وہ ممتا اور باپ کی شفقت فراہم نہیں کر سکا جو ایک بچے کی متوازن نشوونما اور مستقبل میں ایک بڑے خاندان کی بنیاد رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
اسلامی نظام زندگی نے خاندانی ڈھانچے کو جو مضبوطی فراہم کی ہے، وہ دنیا کے کسی اور نظام میں نظر نہیں آتی۔ اسلام میں نکاح کو نصف ایمان اور اولاد کو اللہ کی رحمت قرار دے کر ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی گئی ہے جہاں آبادی کا بڑھنا خوف نہیں بلکہ طاقت کی علامت ہے۔ اسلام میں اسقاط حمل کی حوصلہ شکنی اور ہم جنس پرستی کو قطعی حرام قرار دینا دراصل انسانی نسل کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم مہاجرین جہاں بھی جاتے ہیں، وہ اپنی مذہبی اقدار کے باعث اپنے خاندان کو بکھرنے نہیں دیتے اور ان کے ہاں بچوں کی کثرت ان کے لئے فخر کا باعث ہوتی ہے۔ یورپ کے لیے یہی وہ سب سے بڑا ثقافتی چیلنج ہے جس کا مقابلہ وہ اپنی کھوکھلی لبرل ازم سے نہیں کر پا رہا۔
ایلن مسک اور ان کے ہم نوا جس Great Replacement" کا رونا رو رہے ہیں، وہ دراصل ان کی اپنی اخلاقی شکست کا اعتراف ہے۔ وہ یہ تو دیکھتے ہیں کہ تارکین وطن ان کی زمینوں پر قابض ہو رہے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے اپنے نوجوانوں نے ذمہ داریوں سے بھاگ کر کتوں اور بلیوں کو پالنے کو بچوں پر ترجیح دی ہے۔ یورپ میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے گھرانے ہیں جہاں کوئی بچہ نہیں ہے اور تنہائی وہاں کا سب سے بڑا مرض بن چکی ہے۔ جب ایک تہذیب تولیدی عمل سے منہ موڑ لیتی ہے، تو قدرت کا اصول ہے کہ وہ زمین ان لوگوں کو منتقل کر دیتی ہے جو اس کی آبادی کا حق ادا کرنا جانتے ہیں۔ یہ کوئی سازش نہیں بلکہ ایک سادہ سا حیاتیاتی اور سماجی عمل ہے جسے نسل پرستی کے نعروں سے نہیں بدلا جا سکتا۔
یورپ میں جنسی آزادی کے نام پر جو تجربات کیے گئے، انہوں نے وہاں کے مرد و عورت کے درمیان فطری کشش اور ضرورت کے توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ جب جنسی تسکین کے لیے خاندان کی قید ضروری نہ رہے اور مصنوعی طریقوں سے خواہشات پوری کی جانے لگیں، تو نکاح جیسے مقدس بندھن کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، ایشیائی اور اسلامی معاشروں میں حیا اور پاکدامنی کے تصورات نے شہوانیت کو ایک نظم و ضبط کے تابع رکھا ہے، جس کا حتمی نتیجہ ایک مستحکم خاندان کی صورت میں نکلتا ہے۔ یورپ کی سڑکوں پر ایل جی بی ٹی کے جھنڈے تو لہرائے جا سکتے ہیں، لیکن وہ جھنڈے پالنوں میں جھولتے بچوں کا متبادل نہیں بن سکتے جو مستقبل کے شہری اور معیشت کا پہیہ چلانے والے ہاتھ بن سکیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یورپ کا مستقبل اب اس کے ہاتھ سے نکل کر ان لوگوں کے ہاتھ میں جا رہا ہے جو خاندان کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ اگر یورپ کو اپنی بقا عزیز ہے تو اسے تارکین وطن پر پابندیاں لگانے کے بجائے اپنے اس تباہ کن لبرل کلچر پر نظر ثانی کرنی ہوگی جس نے اسے بانجھ پن کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی معیشت تو سنبھال سکتی ہیں، لیکن وہ انسانی نسل اور جذبات کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔ تبدیلی کا یہ قدرتی عمل جاری رہے گا اور جب تک مغرب اپنے خاندانی نظام کو دوبارہ درست نہیں کرتا، وہ اپنی گھٹتی ہوئی آبادی کا ملبہ دوسروں پر ڈال کر صرف وقت ہی ضائع کر سکتا ہے، تاریخ کا رخ نہیں موڑ سکتا۔
.jpg)