درد کی دوائیں: وقتی آرام، مستقل خطرہ
آج کے تیز رفتار دور میں درد کی دوا لینا ایک عام سی بات بن چکی ہے۔ سر درد ہو، کمر میں درد ہو، جوڑ دکھ رہے ہوں یا تھکن زیادہ محسوس ہو اکثر لوگ بغیر ڈاکٹر سے مشورہ کیے پین کِلر استعمال کر لیتے ہیں۔
کچھ افراد تو روزانہ ایک گولی کو معمول سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ درد کی دوائیں وقتی طور پر آرام دیتی ہیں، مگر یہ حقیقت کم ہی لوگوں کو معلوم ہے کہ
ان دواؤں کا بے جا اور مسلسل استعمال جسم کو خاموشی سے نقصان پہنچاتا ہے۔
گردوں پر خاموش اثر
زیادہ تر درد کی دوائیں گردوں کے ذریعے جسم سے خارج ہوتی ہیں۔
بار بار اور زیادہ مقدار میں استعمال سے گردوں کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
کئی مریضوں کو اس وقت پتا چلتا ہے جب گردوں کا نقصان کافی بڑھ چکا ہوتا ہے۔
معدہ اور آنتیں بھی محفوظ نہیں
پین کِلر کے زیادہ استعمال سے
تیزابیت
معدے کا السر
معدے سے خون آنا
جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
خاص طور پر خالی پیٹ درد کی دوا لینا معدے کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
دل کے مریضوں کے لیے خطرہ
کچھ درد کی دوائیں دل کے مریضوں میں
بلڈ پریشر بڑھا سکتی ہیں
اور دل کے دورے یا فالج کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ اکثر لوگ ان خطرات سے لاعلم رہتے ہیں۔
ہر درد ایک جیسا نہیں ہوتا
یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ:
ہر درد سادہ نہیں ہوتا
ہر درد کا علاج پین کِلر نہیں ہوتا
مسلسل سر درد،
بار بار گردن یا کمر کا درد،
پٹھوں میں جلن یا سنسناہٹ،
یا درد کے ساتھ متلی اور چکر
یہ سب کسی اندرونی بیماری کی علامت ہو سکتے ہیں
جن کے لیے صحیح تشخیص ضروری ہوتی ہے۔
صرف درد کی دوا لینے سے بیماری دب تو جاتی ہے،
مگر ختم نہیں ہوتی، اور وقت کے ساتھ مسئلہ مزید بگڑ سکتا ہے۔
محفوظ راستہ کیا ہے؟
اگر درد:
بار بار ہو رہا ہو
کئی دنوں سے ٹھیک نہ ہو
یا دوا کے بغیر برداشت نہ ہو رہا ہو
تو خود علاج کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہی دانشمندی ہے۔
کئی صورتوں میں:
فزیوتھراپی
مناسب ورزش
طرزِ زندگی میں تبدیلی
اور مخصوص علاج
درد کی دواؤں سے زیادہ مؤثر اور محفوظ ثابت ہوتے ہیں۔
عوام کے لیے اہم پیغام
درد کی دوا علاج نہیں بلکہ وقتی سہارا ہے۔
اصل علاج درد کی وجہ جاننا اور اس کا درست حل تلاش کرنا ہے۔
وقتی آرام کے بدلے اپنی صحت کو مستقل خطرے میں ڈالنا دانشمندی نہیں۔
یہ تحریر عوامی آگاہی کے لیے ہے
ادویات ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے سے استعمال کریں
ڈاکٹر نساء رئیسانی
.jpg)