بدلتی عالمی سیاست کے پیچھے ایک جھنڈا اور ایک ایجنڈا
تحریر:محمدانوارالحق
حالیہ مہینوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں ایک دلچسپ اور چونکا دینے والا منظر بار بار سامنے آیا ہے — مظاہرین کے ہاتھوں میں لہراتا ہوا ایک مخصوص جھنڈا، جس پر ایک کھوپڑی، دو ہڈیاں اور ایک پیلے رنگ کی ٹوپی بنی ہوئی ہے۔ یہ جھنڈا کسی تاریخی تحریک یا قومی پرچم کا نہیں بلکہ جاپانی اینیمے سیریز "ون پیس" کے ایک خیالی قزاق گروہ "اسٹرا ہیٹ پائریٹس" کا ہے۔
نیپال، انڈونیشیا، فلپائن اور مڈغاسکر جیسے ممالک میں حالیہ مظاہروں کے دوران یہ جھنڈا بارہا دیکھا گیا ہے، خاص طور پر نوجوان نسل کے ہاتھوں میں، جو سڑکوں پر نکل کر کرپشن، مہنگائی، بیروزگاری اور بدانتظامی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مظاہرے محض مقامی سطح پر نہیں بلکہ عالمی سطح پر بیک وقت پھوٹے ہیں اور ان میں ایک جیسی علامت کا استعمال ایک نیا سوال پیدا کرتا ہے: کیا یہ محض اتفاق ہے، یا کسی گہرے ایجنڈے کا اشارہ؟
ون پیس کا مرکزی کردار لُفی اور اس کے ساتھی ہمیشہ طاقتور اور ظالم نظاموں کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی بیانیہ آج کی نوجوان نسل کو متاثر کر رہا ہے، جو موجودہ نظام سے نالاں ہے اور کچھ نیا، کچھ آزاد دیکھنا چاہتی ہے۔ لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی ایک خیالی جھنڈا مختلف ممالک میں بیک وقت کیسے ایک جیسا اثر ڈال رہا ہے؟ کیا یہ صرف انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور انیمے کی مقبولیت کا نتیجہ ہے، یا اس کے پیچھے کوئی نیا بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے جس کا مقصد نوجوانوں کے جذبات کو ایک خاص سمت میں موڑنا ہے؟
دنیا میں جس تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، حکومتیں بدل رہی ہیں، نظریات کمزور پڑ رہے ہیں اور عوامی تحریکیں غیر متوقع انداز میں اٹھ رہی ہیں، یہ سب کچھ غور طلب ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس جھنڈے کو کسی عالمی سطح پر تشکیل دی گئی سوچ کے تحت استعمال کیا جا رہا ہو تاکہ نوجوانوں بالخصوص جنریشن زی کو روایتی نظریات سے ہٹا کر ایک نئی عالمی شناخت یا نئے ورلڈ آرڈر کی طرف لایا جا سکے۔
یہ سوچنے کا وقت ہے کہ کیا یہ سب محض ایک مشہور کارٹون کی علامت ہے، یا ایک نیا دور اپنے آغاز کی طرف بڑھ رہا ہے، جس میں بظاہر بے ضرر ثقافتی علامتیں ایک گہرے سیاسی، سماجی یا نظریاتی ایجنڈے کا حصہ بن چکی ہیں؟ ہمیں اس پر کھلے ذہن سے غور کرنا ہوگا، کیونکہ بعض اوقات تبدیلی کی شروعات خاموش اور غیر متوقع طریقے سے ہوتی ہے — بالکل ایسے ہی جیسے ایک جھنڈا، جو کبھی صرف ایک کہانی کا حصہ تھا، آج دنیا کی حقیقی سیاست میں داخل ہو چکا ہے۔
.jpg)
.jpg)