وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات: مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر زور
وزیراعظم آفس کے مطابق یہ ملاقات نیویارک میں جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی، جہاں شہباز شریف نے پاکستان کے لیے اہم قومی اور علاقائی معاملات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازع، انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور پاکستان میں بیرونی پشت پناہی سے ہونے والی دہشت گردی کے مسائل کو اجاگر کیا۔
بیان کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز 22 اپریل کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے سے ہوا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد 6 سے 10 مئی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ ہوا، جب کہ انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور اٹاری چیک پوسٹ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ بالآخر عالمی دباؤ کے نتیجے میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
وزیراعظم نے اس دوران کشیدگی کم کرنے میں سیکریٹری جنرل کی قیادت اور کوششوں کو سراہا اور پاکستان کے اس عزم کو دہرایا کہ کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنایا جائے تاکہ عالمی چیلنجز کا سامنا کرنے میں اقوام متحدہ کا مرکزی کردار برقرار رہے۔
انہوں نے امن و استحکام کے فروغ، ترقی پذیر ممالک کی آواز کو بلند کرنے اور عالمی حکمرانی میں اقوام متحدہ کے مؤثر کردار کی تعریف کی۔ اس موقع پر شہباز شریف نے پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے دوران ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کی ستائش کرنے پر سیکریٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا اور زور دیا کہ دنیا کو مشترکہ اقدامات کرنے چاہییں، جن میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے اضافی فنڈز کی فراہمی بھی شامل ہو۔
.jpg)
.jpg)