پاکستان کو ان دنوں آئی ایم ایف کے ساتھ دوسرے اقتصادی جائزے کا سامنا ہے، اور اس تناظر میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو محض دو ہفتوں میں 1100 ارب روپے اکٹھے کرنے کا مشکل ترین ہدف درپیش ہے۔
ذرائع کے مطابق جولائی تا ستمبر 2025 کے لیے مجموعی ریونیو ہدف 3 ہزار 83 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اب تک کے اعدادوشمار کے مطابق ایف بی آر نے جولائی اور اگست میں صرف 15 فیصد گروتھ حاصل کی ہے، جبکہ ہدف پورا کرنے کے لیے آئندہ دو ہفتوں میں 21 فیصد ریونیو گروتھ درکار ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی اور سماجی صورتحال اس چیلنج کو مزید کٹھن بنا رہی ہے۔ سیلابی صورتحال نے ملک کے کئی حصوں میں کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، جبکہ یوٹیلیٹی بلز کے بڑھتے ہوئے مسائل نے بھی ریونیو اکٹھا کرنے کی رفتار کو کم کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے آئندہ مذاکرات میں ریونیو ہدف سب سے زیادہ زیرِ بحث رہے گا، اور امکان ہے کہ آئی ایم ایف اپنی شرائط پر سخت مؤقف اپنائے۔ اگر ایف بی آر مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا تو نہ صرف مالیاتی فریم ورک متاثر ہوگا بلکہ مستقبل میں پاکستان کو مزید کڑی شرائط اور نئے اقدامات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
.jpg)