غزل: ڈرتا ہوں کوٸی سنگ مرے سر پہ نہ لگے

غزل
شاعر: شہباز ناصر

 ڈرتا ہوں کوٸی سنگ مرے سر پہ نہ لگے
میں چاہتا ہوں پیڑ ہو لیکن ثمر نہ ہو

اتنا نڈر ضرور ہو کہ دیں بچا سکے
جو خودکشی کرے کوٸی اتنا نڈر نہ ہو

برسوں کے بعد دیکھنے جو آٸے وہ تجھے
ناصر تو اتفاق سے اس دن بھی گھر نہ ہو



Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !