پنجاب اور سندھ کے بلوچ اور اور ان کی شناخت

تحریر: عاقب جتوئی

پاکستان کی تاریخ محرومیوں اور ناانصافیوں سے بھری ہوئی ہے اور ان محرومیوں کا سب سے زیادہ بوجھ بلوچ قوم نے اٹھایا ہے۔ ہر دور میں بلوچ اپنی شناخت کے بحران سے دوچار رہے۔ کبھی انہیں لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا اور کبھی سیاسی نظراندازی کے باعث ان کی اصل پہچان پس منظر میں چلی گئی۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ صدیوں پرانی ایک جری، بہادر اور تاریخی قوم آج بھی اپنی شناخت کے لیے جدوجہد پر مجبور ہے۔

بلوچ قوم پاکستان کی قدیم اور بڑی اقوام میں شمار ہوتی ہے۔ اس قوم کی جڑیں تاریخ کے ایسے ادوار میں پیوست ہیں جہاں ان کی شجاعت، غیرت اور آزادی کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے زبان کے تنوع نے ان کی شناخت پر گہرا اثر ڈالا۔ بلوچستان میں رہنے والے بلوچ اپنی زبان اور ثقافت کے ساتھ جڑے رہے مگر پنجاب اور سندھ میں بسنے والے بلوچ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مقامی زبانوں کے اثر میں آ گئے۔ یوں پنجابی بولنے والے بلوچ ’’پنجابی‘‘ اور سندھی بولنے والے بلوچ ’’سندھی‘‘ کہلانے لگے، حالانکہ ان کی اصل پہچان بلوچ ہی تھی۔

یہ سوال بار بار جنم لیتا ہے کہ کیا صرف زبان بدل لینے سے کسی قوم کی شناخت ختم ہو جاتی ہے؟ ہرگز نہیں! شناخت خون، روایت، تاریخ اور ثقافت سے وابستہ ہوتی ہے۔ زبان بدلنے سے ایک قوم وقتی طور پر ماحول کے ساتھ تو ہم آہنگ ہو سکتی ہے لیکن اپنی اصل جڑوں سے کٹ نہیں سکتی۔ پنجاب اور سندھ کے بلوچ آج بھی اپنی روایات، رسم و رواج اور نسبی رشتوں کی بنیاد پر بلوچ ہیں، چاہے ان کی زبان وقت کے ساتھ بدل گئی ہو۔

یہ لسانی تقسیم دراصل قومی اتحاد میں ایک گہری دراڑ ہے۔ زبان کے نام پر قوموں کو بانٹ دینا ان کی تاریخ، ثقافت اور روایات کو فراموش کر دینا ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جس نے پاکستان جیسے کثیرالقومی ملک میں اتحاد کے بجائے تعصب کو فروغ دیا۔ پنجابی بلوچ ہوں یا سندھی بلوچ، اگر انہیں ان کی اصل پہچان سے محروم رکھا گیا تو یہ صرف بلوچ قوم کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ پاکستان کی قومی وحدت پر بھی کاری ضرب ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان حقائق کو کھلے دل سے تسلیم کریں۔ نصابِ تعلیم اور قومی بیانیے میں یہ پہلو شامل کیا جانا چاہیے کہ پنجاب اور سندھ کے بلوچ اپنی زبان بدلنے کے باوجود اپنی اصل شناخت نہیں کھو چکے۔ اگر آنے والی نسلوں کو حقیقت سے آگاہ نہ کیا گیا تو یہ قوم مزید محرومیوں اور تقسیم کا شکار ہوگی۔

پاکستان میں اتحاد کے فقدان کی سب سے بڑی وجہ یہی لسانی اور صوبائی تعصب ہے۔ ہم نے اپنی قوموں کو پنجابی، سندھی، بلوچی اور پختون کے خانوں میں بانٹ کر یہ بھلا دیا کہ اصل طاقت ان سب کی یکجہتی میں ہے۔ افسوس کہ ہم نے تنوع کو اپنی کمزوری بنا لیا حالانکہ دنیا کی مہذب قومیں تنوع کو اپنی طاقت تصور کرتی ہیں۔ اگر ہم اس روش کو ترک نہ کریں تو نتیجہ صرف محرومی، بداعتمادی اور قومی وحدت کی کمزوری کی صورت میں نکلے گا۔

تحریر: عاقب جتوئی

یہ لمحہ قوم کے لیے انتباہ ہے۔ ہمیں پنجابی بلوچ اور سندھی بلوچ کو ان کا جائز مقام اور شناخت دینا ہوگی۔ یہ اقدام نہ صرف بلوچ قوم کے اندر موجود احساسِ محرومی کو ختم کرے گا بلکہ ملک میں بھائی چارے اور ہم آہنگی کو بھی مضبوط بنائے گا۔ بلوچ قوم پاکستان کے تنوع کا ایک اہم ستون ہے اور اس ستون کو کمزور کرنا دراصل پورے گھر کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

پاکستان کی اصل طاقت اس کے تنوع میں ہے۔ بلوچ، سندھی، پنجابی، پختون اور سرائیکی سب اس دھرتی کے رنگ ہیں۔ اگر ہم ان رنگوں کو مدھم کرنے کے بجائے ایک دوسرے میں گھلا دیں تو یہی تنوع ایک حسین اور مضبوط تصویر بن سکتا ہے۔ پنجابی بلوچ اور سندھی بلوچ کی پہچان کو اجاگر کرنا اسی سمت میں ایک مثبت قدم ہے، جو نہ صرف بلوچ قوم کے حق میں بلکہ پاکستان کی سلامتی اور یکجہتی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

یقیناً! بلوچ قوم کی پہچان کو تسلیم کرنا محض ایک قوم کے حق کی بات نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کی ضمانت ہے۔ اگر ہم نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اب وقت ہے کہ ہم تعصب اور تقسیم سے اوپر اٹھ کر اپنی اصل پہچان کو تسلیم کریں اور قومی اتحاد کی بنیاد رکھیں۔ یہی پاکستان کی بقا اور ترقی کا راستہ ہے۔

Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !