آبنائے ہرمز کی بندش، امریکہ، ایران اور عالمی معیشت کا خطرناک کھیل

آبنائے ہرمز کی بندش، امریکہ، ایران اور عالمی معیشت کا خطرناک کھیل

تحریر: کاشف بلوچ 

امریکہ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے اور اس کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کی طرف سے آبنائے ہرمز کو باقاعدہ بند کرنے کی منظوری نے دنیا کو ایک نئے معاشی اور سیاسی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ صرف مشرقِ وسطیٰ کا معاملہ نہیں، بلکہ پوری دنیا کی معیشت، توانائی، امن اور سفارتکاری اس لمحے ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ 

امریکہ نے اپنے روایتی جارحانہ طرزِ عمل کو برقرار رکھتے ہوئے ایران کو عسکری دباؤ کا نشانہ بنایا، اور اس بار ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے نے ایران کو ردعمل پر مجبور کیا، اور آبنائے ہرمز کی بندش جیسا قدم دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔ جس کا خمیازہ اب پوری دنیا بھگتے گی۔ تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ، مہنگائی کی نئی لہر، اور توانائی کی رسد کا بحران عالمی سطح پر ایک نئے معاشی زلزلے کی بنیاد بن چکا ہے۔

یہ انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے متنازع اور جنگ پسند رہنما کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا، اور حیران کن طور پر پاکستان جیسے ملک نے بھی اس کی حمایت کی۔ یہ وہی ٹرمپ ہے جس کا جنگی جنون دنیا کو بار بار آگ میں جھونکتا رہا ہے، چاہے وہ ایران ہو یا فلسطین۔

ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ امریکہ نے فلسطین میں اسرائیل کی کھلی پشت پناہی کی، جہاں معصوم بچوں، عورتوں، ہسپتالوں، اسکولوں، اور پناہ گاہوں پر بمباری کی گئی۔ ضروری امدادی سامان کی بندش نے انسانی المیے کو کئی گنا بڑھا دیا، اور ان تمام مظالم میں امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا شراکت دار رہا۔ اب اسی امریکہ کا صدر امن ایوارڈ کا خواہاں ہے!

کیا ایسے لوگوں کو امن ایوارڈ دینا امن کے تصور اور نوبل پرائز جیسے اعزاز کی توہین نہیں؟

ایک طرف امریکہ دنیا بھر میں امن، انسانی حقوق اور جمہوریت کا علمبردار بننے کی کوشش کرتا ہے، اور دوسری طرف وہی طاقت مشرق وسطیٰ کو بار بار جنگ کی آگ میں جھونکتی ہے۔ یہ دہرا معیار اب دنیا کے لیے ناقابل قبول ہوتا جا رہا ہے۔ ایران پر حملہ، آبنائے ہرمز کی بندش، اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عالمی بحران اس دوغلے پن کی تازہ مثال ہے۔

ایران کے اس اقدام کے بعد نہ صرف امریکہ بلکہ اس کے اتحادیوں کی جانب سے مزید اقدامات متوقع ہیں۔ چین اور روس جیسے ممالک ایران کے قریب کھڑے نظر آ رہے ہیں، اور خطہ کسی بھی لمحے ایک بڑی جنگ کا میدان بن سکتا ہے۔ اس صورتِ حال میں عالمی اداروں کی خاموشی اور عالمی ضمیر کی بے حسی خود ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش اب محض ایک جغرافیائی واقعہ نہیں بلکہ یہ عالمی امن، انصاف اور سچائی کا امتحان بن چکی ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا ایک بار پھر جنگ، بھوک، مہنگائی اور انسانی تباہی کی دہلیز پر کھڑی ہے، ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں، ظلم کے یا امن کے؟

اور اگر ظلم کرنے والے ہی امن کے ایوارڈ کے حق دار بننے لگیں، تو ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا اب امن خود ایک مذاق بن چکا ہے؟

Closing the Strait of Hormuz is a dangerous game between America, Iran and the global economy. by Kashif Baloch

مزید تحریریں: Kashif Baloch
Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !