غزل: اندھیرے اجالے کو کھانے لگے ہیں

 غزل

شاعر:شہباز ناصر

 اندھیرے اجالے کو کھانے لگے ہیں
بڑے گھر کے جتنے تھے جانے لگے ہیں

کسی کو کسی کی سمجھ کیسے آئے
کہ اندھوں کو گونگے منانے لگے ہیں

کوئی ایک دشمن نہیں اپنے پیچھے
فلانے فلانے فلانے لگے ہیں

ترقی سے جلتے ہیں اک دوسرے کی
تبھی چغلیاں روز کھانے لگے ہیں

سلامت نہیں ہاتھ جن دوستوں کے
وہی تیر مجھ پہ چلانے لگے ہیں

جو اک بات رکھنی تھی دل میں چھپا کے
وہی بات سب کو بتانے لگے ہیں



Join Urdu Insight WhatsApp Channel

📢 Join our WhatsApp Channel for latest news and updates! تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ابھی اُردو انسائیٹ کے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں

#buttons=(Accept !) #days=(20)

اردو انسائیٹ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ استعمال کرنے سے آپ کوکیز کے استعمال سے اتفاق کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیویسی پالیسی ملاحظہ کریں۔ Check Now
Accept !