پاکستان کی تاریخی باؤلیاں : زمین کے سینے میں چھپے تہذیبی خزانے
ایک تحقیقی جائزہ
تحریر: عاقب جتوئی
پاکستان کی سرزمین صدیوں سے فاتحین، صوفیاء اور تاجروں کی گزرگاہ رہی ہے۔ اس قدیم شاہراہِ اعظم (GT Road) اور صحرائی راستوں پر مسافروں کی پیاس بجھانے کے لیے جو نظام وضع کیا گیا، اسے "باؤلی" کہا جاتا ہے۔ باؤلی ایک ایسا کنواں ہے جس میں پانی کی سطح تک پہنچنے کے لیے باقاعدہ سیڑھیاں بنائی جاتی تھیں۔ یہ فنِ تعمیر نہ صرف پانی کی فراہمی کا ذریعہ تھا بلکہ تپتی دھوپ میں مسافروں کے لیے ایک ٹھنڈی پناہ گاہ بھی تھا۔
تاریخی اہمیت: مٹتے قدموں کے نشان
باؤلیوں کی تاریخ ہمیں شیر شاہ سوری کے دورِ عدل اور مغلوں کی شاہانہ تعمیرات کی یاد دلاتی ہے۔ شیر شاہ سوری نے جب افغانستان سے بنگال تک طویل سڑک تعمیر کروائی، تو ہر چند میل کے فاصلے پر باؤلیاں بنوائیں تاکہ لشکر اور عام مسافر سکون پا سکیں۔ ان کی اہمیت درج ذیل پہلوؤں سے اجاگر ہوتی ہے:
انجینئرنگ کا شاہکار: زمین کے نیچے درجہ حرارت سطح زمین سے 5 سے 10 ڈگری کم رہتا تھا، جو قدرتی ایئر کنڈیشننگ کا کام دیتا تھا۔
سماجی مرکز: یہ جگہیں مقامی لوگوں کے لیے سماجی رابطے کا ذریعہ تھیں، جہاں خواتین پانی بھرنے کے بہانے خبروں کا تبادلہ کرتی تھیں۔
دفاعی حکمتِ عملی: قلعوں (جیسے روہتاس) میں باؤلیاں اس لیے بنائی جاتی تھیں کہ محاصرے کی صورت میں قلعہ بند فوج کو پانی کی کمی نہ ہو۔
پاکستان کی اہم باؤلیاں: ایک نظر میں
وان بھچراں (میانوالی): صحرا کا تحفہ
ضلع میانوالی کی یہ عظیم الشان باؤلی شیر شاہ سوری کے دور کی یادگار ہے۔ اس کی گہرائی اور سیڑھیوں کی بناوٹ آج بھی دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہے۔ یہ تھل کے تپتے صحرا میں قافلوں کے لیے زندگی کی علامت تھی۔
جنڈیالہ شیر خان (شیخوپورہ): صوفیانہ خوشبو
وارث شاہ کی نگری میں واقع یہ باؤلی مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں شیر خان نامی گورنر نے بنوائی۔ اس کے اوپر بنا گنبد اور محرابیں مغل جمالیات کا بہترین نمونہ ہیں۔
شاہی باؤلی (قلعہ روہتاس): ناقابلِ تسخیر کنواں
جہلم کے قریب واقع قلعہ روہتاس میں تین بڑی باؤلیاں ہیں۔ ان میں سے "شاہی باؤلی" سب سے نمایاں ہے، جس کی 100 سے زائد سیڑھیاں براہِ راست پانی کے چشمے تک جاتی ہیں۔
لوسر باؤلی (واہ کینٹ): شاہراہِ اعظم کا سنگِ میل
ٹیکسلا اور واہ کے سنگم پر موجود یہ باؤلی اپنی مضبوطی کے لیے مشہور ہے۔ صدیوں گزرنے کے باوجود اس کی ساخت میں کوئی فرق نہیں آیا، جو اس دور کے معماروں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
شموزئی باؤلی (مردان): قدیم ترین ورثہ
خیبر پختونخوا میں دریافت ہونے والی یہ باؤلی گندھارا تہذیب اور اشوک اعظم کے دور کی عکاسی کرتی ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ یہاں سیڑھیوں والے کنووں کا تصور ہزاروں سال پرانا ہے۔
رانی باؤلی (آزاد کشمیر): پہاڑوں میں آبِ رواں
پلندری (آزاد کشمیر) کی رانی باؤلی پہاڑی علاقے میں پانی کی تقسیم کا ایک انوکھا نظام پیش کرتی ہے، جسے ڈوگرہ دور میں عوامی خدمت کے جذبے سے بنایا گیا تھا۔
آج یہ تاریخی باؤلیاں کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔ کہیں ان میں کچرا پھینکا جا رہا ہے اور کہیں زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں۔ یہ باؤلیاں محض پتھروں کا ڈھیر نہیں بلکہ ہماری تہذیب کی عکاس ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ آثارِ قدیمہ اور سیاحتی ادارے ان کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اپنی تاریخ سے جڑی رہیں۔
.jpg)